سعودی عرب پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل موخر ادائیگی پریگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف سے سعودی فنڈ برائے ترقی (SFD) کا وفد ملاقات کررہا ہے
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) سعودی عرب پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل مؤخر ادائیگی پر دے گا۔پاکستان اور سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کے درمیان 1.61 ارب ڈالر کے 2معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے۔معاہدوں کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی درآمد کی سہولت فراہم کی جائے گی جب کہ مانسہرہ میں واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 4 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا رعایتی قرض دیا جائے گا۔یہ
معاہدے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہیں۔سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (SFD) کے وفد نے سلطان بن عبدالرحمن المرشد، چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کی قیادت میں ملاقات کی۔ اس معاہدے کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، دیگر اعلیٰ حکام اور سعودی وفد نے شرکت کی۔وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کیا اور سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے صحت، توانائی، انفرااسٹرکچر اور تعلیم کے شعبوں میں پاکستان کو مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 2022 ء کے تباہی کن سیلاب کے بعد تعمیر نو کے لیے SFD کی کوششوں کو سراہا۔ایس ایف ڈی کے چیف ایگزیکٹو نے سعودی وفد کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ سی ای او، ایس ایف ڈی نے وزیراعظم کو جاری منصوبوں بشمول مہمند ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، گولن گول ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، ملاکنڈ ریجنل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ، اور سعودی گرانٹس کے ذریعے فنڈ کیے گئے دیگر منصوبوں کے بارے پیشرفت سے آگاہ کیا۔ ایس ایف ڈی کے چیف ایگزیکٹو نے مشترکہ منصوبوں پر جلد کارروائی کی یقین دہانی کرائی اور اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ سعودی عرب، شاہی خاندان کی قیادت میں، پاکستان کو ہر ممکن مدد اور مسلسل تعاون فراہم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کو اور سعودی
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز