کراچی (نوائے وقت رپورٹ) سندھ اسمبلی نے ایگریکلچرل انکم ٹیکس بل اکثریت سے منظور کر لیا۔ رواں ماہ سے نافذ العمل ہو گا۔ بورڈ آف ریونیو کے بجائے سندھ ریونیو بورڈ ٹیکس جمع کرے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ریونیو بورڈ نے ہر سال اپنے اہداف پورے کئے ہیں۔ زرعی ٹیکس پہلے بھی عائد تھا اور لوگ یہ ٹیکس دے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے بات کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ آئی ایم ایف سے بات کرنے میں صوبوں کو شامل نہ کرنا غلط ہے۔ ایف بی آر کرپشن کا گڑھ ہے۔ پچھلے سال مئی میں وفاق نے کہا کہ یہ ٹیکس ایف بی آر جمع کرے گا۔ وزیراعظم خود کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ایف بی آر کرپشن کا گڑھ ہے۔ جیسے ایف بی آر کئی جگہوں پر ناکام رہا ویسے ہی ایس آر بی بھی ناکام رہا۔ وفاقی ٹیکس میں صوبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ ایف بی آر نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کہا زرعی شعبہ ٹیکس نہیں دیتا۔ آئی ایم ایف سے بات کرنے میں صوبوں کو شامل نہ کرنا غلط ہے۔ اس سال زرعی ٹیکس کا 3 ارب روپے جمع کر چکے تھے۔ جو ٹیکس دیتا ہے اس پر ٹیکس کا بوجھ کیوں بڑھایا جا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کی وجہ بنیں۔ انہوں نے شرط لگائی 30 ستمبر تک یہ بل اسمبلیوں سے پاس کرائیں۔ اگر زرعی ٹیکس نہ لگاتے تو آئی ایم ایف ٹیم نہ آتی اور پاکستان ڈیفالٹ میں چلا جاتا۔ دریں اثناء سندھ کابینہ کے اجلاس میں ایگریکلچر انکم ٹیکس 2025ء کی منظوری کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ زرعی ٹیکس بل کے نفاذ کی منظوری میں وزیراعلیٰ سندھ کو کابینہ اجلاس میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بیشتر ارکان نے صوبوں میں وفاق  کے زرعی ٹیکس نفاذ کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت کہا۔ کابینہ ارکان نے درخواست کی کہ وزیراعلیٰ سندھ اس پر پہلے وفاقی حکومت سے بات کریں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا میں وزیراعظم سے بات کروں گا۔ بلوچستان اسمبلی نے بھی زرعی آمدنی پر ٹیکس کے بل کی منظوری دے دی۔ بل کے متن کے مطابق 6 لاکھ سالانہ تک زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا۔ 6 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس نافذ ہو گا۔ 12 لاکھ سے 16 لاکھ سالانہ آمدنی پر 90 ہزار روپے فکس ٹیکس نافذ ہو گا۔ 16 لاکھ سے 32 لاکھ آمدنی پر ایک لاکھ 70 ہزار فکس ٹیکس ہو گا۔ 32 لاکھ سے 56 لاکھ تک آمدنی پر 6 لاکھ 50 ہزار روپے فکس ٹیکس عائد ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف زرعی ٹیکس کی منظوری ایف بی آر لاکھ سے سے بات

پڑھیں:

سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن