AHMEDABAD:

بھارت کے نوجوانوں نے امریکا کے ویزا کے حصول کے لئے ہندو مندروں کا رخ کیا ہے، خاص طور پر وہ مندر جو ویزا کے لئے حاجتیں پوری کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔

یہ رجحان اس وقت سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کئے جن کے تحت امریکہ میں داخلے کے لئے ویزا کے عمل کو سخت بنانے کی کوشش کی گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں واقع چمکاتی ہنومان مندر، جسے "ویزا ہنومان" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ان مندروں میں شامل ہے جہاں لوگ امریکی ویزا کی منظوری کے لئے دعا کرتے ہیں۔

مندر کے پجاری وجے بھٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ویزا کے درخواست دہندگان کو ہنومان جی کے سامنے اپنے پاسپورٹ رکھنے اور ایک مخصوص مذہبی نغمہ پڑھنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب عقیدے پر مبنی ہے، اگر آپ یقین رکھتے ہیں تو سب کچھ ممکن ہے، لیکن اگر شک آ جائے تو مایوسیاں آتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے کئی واقعات دیکھے گئے ہیں جہاں لوگوں نے بار بار کے ویزا کے انکار کے باوجود صرف چند گھنٹوں میں منظوری حاصل کی۔

امریکا کی جانب نقل مکانی بھارت کے بہت سے لوگوں کے لئے ایک حیثیت کی علامت رہی ہے، لیکن ٹرمپ کی نئی ویزا پالیسیوں نے بھارتیوں کی خواہشات کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ویزا کے کے لئے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود