سندھ ہائیکورٹ‘ریٹائرڈ بلدیہ ملازم کے واجبات کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میںریٹائرڈ بلدیہ ملازم کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست۔ عدالت نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ۔دوران سماعت ایڈیشنل چیف سیکرٹری کاکہنا تھا کہ کے ایم سی کے وکیل نے عدالت میں غلط بیانی کی، وکیل کاکہنا تھا کہ وکیل کے ایم سی نے پینشن کی ادائیگی ٹائونز کی ذمے داری قرار دی تھی، کے ایم سی کے وکیل نے پینشن کی مد میں سندھ حکومت کی ٹائونز کو ادائیگی کا بیان دیا تھا، کے
ایم سی کے وکیل کا پیش کردہ لیٹر کسی اور معاملے سے متعلق تھا، میونسپل کمشنر بلدیہ کا عدالت میں کہناتھاکہ درخواست گزار کو لیو انکیشمنٹ کی مد میں واجبات ادا کردیے گئے ہیں، عدالت نے وضاحت کے لیے میئر کراچی، میونسپل کمشنر اور دیگر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔