طالبعلم سے کلاس میں شادی؛ ویڈیو وائرل ہونے پر خاتون پروفیسر کی مستعفی ہونے کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
مغربی بنگال کی مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی سینئر خاتون پروفیسر کی اپنے طالبعلم کے ساتھ کلاس میں شادی کرنے کی ویڈیو 28 جنوری کو وائرل ہوئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ خاتون خود سے کافی عمر طالب علم کے ساتھ ہندو بنگالی شادی کی رسومات ادا کر رہی ہیں۔
خاتون پروفیسر نے روایتی عروسی لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور طالب علم کے گلے میں شادی کا ہار ڈال رہی ہوتی ہیں۔
یہ ویڈیو کلاس روم میں ریکارڈ کی گئی تھی اور جماعت میں طالب علم کی بڑی تعداد بھی موجود تھے جو بھجن گا رہے تھے۔
اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی تھی اور اس خاتون پروفیسر کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا تھا۔
جس پر خاتون پروفیسر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ویڈیو دراصل ایک ڈرامے کی ریہرسل تھی جس میں بنگالی ہندوؤں کی شادی کی رسومات دکھانی تھیں۔
شدید عوامی اعتراضات کے بعد یونی ورسٹی نے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیکر خاتون پروفیسر کو چھٹیوں پر بھیج دیا تھا۔
یونی روسٹی پروفیسرز پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے خاتون ٹیچر کے دعوے کو مسترد کر دیا اور اس حرکت کو جامعہ کے وقار کے منافی قرار دیا۔
دوسری جانب خاتون پروفیسر کا کہنا تھا کہ یہ صرف طلبا کو شادی کی رسومات سے آگاہی کے لیے تھا جسے میری ایک کولیگ نے ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے وائرل کیا تھا۔
خاتون پروفیسر نے اپنی ساتھی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیتے ہوئے یونی ورسٹی کو استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔