کراچی؛ کسٹمز کی کارروائی، اسمگل شدہ ٹائرز کی بڑی کھیپ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت شہر میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران اسمگل شدہ ٹائرز کی ایک بڑی کھیپ برآمد کرلی۔
ڈپٹی کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی رضا نقوی نے بتایا کہ خفیہ اطلاع موصول ہونے پر کسٹمز حکام نے سندھ رینجرز اور پولیس کے ہمراہ پرانی سبزی مندی یونیورسٹی روڈ پر قائم مختلف گوداموں پر چھاپہ مار کاروائی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں کروڑوں روپے مالیت کے ہزاروں اسمگل شدہ ٹائرز برآمد کرلیے گئے ہیں، چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے اسمگل شدہ ٹائرز کو ایک 40 فٹ کنٹینر اور 27 مزدا ٹرکوں کے ذریعے اے ایس او کسٹمز کے گودام میں منتقل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ علاقے میں چھاپے کے دوران کسٹمز حکام کو شدید مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
رضا نقوی کے مطابق کسٹمز کا عملہ ضبط شدہ ٹائرز کی درست تعداد، سائز، برانڈ اور مالیت کا تعین کرنے میں مصروف ہے کیونکہ برآمد ہونے ٹائرز مختلف اقسام کے بنڈلز کی صورت میں برآمد ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ اسمگلروں کے منظم گروہ کی جانب سے یہ ٹائرز افغانستان سے اسمگل کرکے بلوچستان پہنچائے اور بعدازاں انہیں منظم انداز میں کراچی پہنچا کر مختلف گوداموں میں ڈمپ کیے تھے جنہیں تھوک کی سطح پر فروخت کیا جانا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسمگل شدہ ٹائرز
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔