عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت درخواست، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل ذاتی حیثیت میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت درخواست، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل ذاتی حیثیت میں طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 7 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت درخواست کی سماعت کی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو 12 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے 24 جنوری کو جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔