انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میں ہماری ٹیم افغانستان کیخلاف میچ میں شرکٹ کرے گی۔

ای سی بی بورڈ اجلاس کے بعد چیئرمین رچرڈ تھامسن نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جوز بٹلر کی قیادت میں چیمپئینز ٹرافی ایونٹ کے دوران انگلینڈ کی ٹیم افغانستان کیخلاف میچ میں حصہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خواتین کرکٹ سمیت حقوق نہ ملنے پر حکومت، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور مینز کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کیساتھ رابطے میں ہیں اور سب کی آراء کو سنا ہے۔

مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ انگلینڈ، افغانستان کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کرے، مگر کیوں؟

قبل ازیں رواں سال کے آغاز پر ملک میں افغان طالبان کی جانب سے حکومت سنبھالنے کے بعد خواتین پر عائد پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 160 سے زائد برطانوی سیاستدانوں نے اگلے ماہ پاکستان میں شیڈول آئی سی سی چیمئینز ٹرافی میں افغانستان کرکٹ ٹیم کیخلاف میچ سے بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سال 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد ویمز ٹیم کی کھیلوں میں شرکت پر پابندی عائد ہے، جس کے خلاف افغانستان کرکٹ بورڈ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: کون سی ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی؟ شعیب اختر نے بتادیا

انگلینڈ کی مینز ٹیم کو 26 فروری کو لاہور میں افغانستان سے مقابلہ کرنا ہے۔

تاہم اب چیئرمین ای سی بی نے تصدیق کی ہے کہ انکی ٹیم پاکستان میں ہونیوالے میگا ایوںٹ کے دوران افغانستان کیخلاف مدمقابل آئے گی۔

مزید پڑھیں: خواتین کے حقوق کا بہانہ آسٹریلیا کا افغانستان سے سیریز کھیلنے سے انکار

افغانستان کیخلاف میچ سے قبل انگلینڈ کو روایتی حریف آسٹریلیا کا چیلنج درپیش ہوگا۔ 

اس سے قبل بھارت میں ہونے والے ون ڈے ورلڈکپ 2023 میں انگلینڈ اور افغانستان دونوں آمنے سامنے آئے تھے جہاں افغانستان نے انگلش ٹیم کو دھول چٹادی تھی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چیمپئینز ٹرافی کے بعد

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا