Jasarat News:
2026-07-24@13:22:04 GMT

کارپوریٹ فارمنگ منصوبے فوری ختم کئے جائیں،عوامی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکالنے اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے 9 فروری کو مکلی پارک سے ٹھٹہ تک اعلان کردہ پیدل مارچ کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، عبدالقادر رانٹو، عوامی تحریک ضلع ٹھٹہ کے صدر رزاق چانڈیو نے گجو، گھارو، میرپور ساکرو، بھارا، بگھاں اور وَر سمیت ضلع ٹھٹہ کے مختلف دیہاتوں کا دورہ کیا۔ پارٹی اجلاسوں میں 9 فروری کے مارچ میں بھرپور شرکت کے لیے علاقائی سطح پر منصوبہ بندی کی گئی۔اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ وفاقی حکومت کے ساتھ سندھ حکومت بھی کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے سندھ کو فروخت کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھیوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں بے وطن کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کمپنیوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکال کر سندھ کے عوام کا پانی بند کیا جا رہا ہے، جو سندھ کو ریگستان میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث سندھ کو سالانہ اربوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔کوٹری بیراج سے نیچے ڈیلٹا میں پانی نہ چھوڑنے کے باعث ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے لاکھوں ایکڑ زمین سمندر برد ہو چکی ہے۔ آبی حیات کی ہزاروں نسلیں خطرے میں ہیں، اور پانی کی مصنوعی قلت کی وجہ سے سندھ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے میں چھ نئے کینال نکال کر سندھی عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کینجھر اور ہالیجی سمیت تمام آبی ذخائر کو محفوظ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے K-IV منصوبے کو کینجھر جھیل کی تباہی کی سازش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ K-IV منصوبہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عوامی تحریک سندھ کو

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار