ٹرمپ کا کینیڈا پر قبضے کی باتوں میں حقیقت ہے، جسٹن ٹروڈو
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈا پر قبضے کی باتوں میں حقیقت ہے۔
کینیڈین وزیراعظم کاروباری اور تجارتی شخصیات سے بند کمرہ اجلاس میں بات کررہے تھے کہ اس دوران غلطی سے ان کی گفتگو لاوڈ اسپیکر پر نشر ہوگئی جس میں انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے کینیڈا پر قبضے کے بیان پر بات کرتے ہوئے سنا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش
ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کی معدنیات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اس کے لیے سب سے آسان راستہ کینیڈا کو امریکا میں ضم کرنا ہے اور اس بات میں حقیقت ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم کے دفتر سے اس پر مزید تبصرہ نہیں کیا گیا ہے البتہ اجلاس میں موجود شخصیات میں سے کچھ نے اس گفتگو کی تصدیق کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
America Donald Trump JUStin trudeau جسٹن ٹروڈو کینیڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹن ٹروڈو کینیڈا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔