Islam Times:
2026-06-03@05:44:33 GMT

ٹرمپ، عالمی لبرل نظام کیلئے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

ٹرمپ، عالمی لبرل نظام کیلئے خطرہ

اسلام ٹائمز: اگرچہ یورپ، امریکہ اور ان کے اتحادی ممالک جیسے کینیڈا وغیرہ لبرل حکومتیں جانی جاتی ہیں اور سرمایہ دارانہ اقتصاد کی حامل ہیں لیکن ان کے تجارتی ڈھانچے قدرے ایکدوسرے سے مختلف ہیں جس کے باعث امریکہ کی جانب سے ان ممالک کی درآمدات پر ٹیکس عائد کیا جانا ممکن ہے۔ اس سوال کے کئی جواب ممکن ہیں کہ امریکہ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ کیونکہ اس کے مدنظر مختلف اہداف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پروٹیکشن ازم کا حامی ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ملکی مصنوعات کی حمایت ضروری ہے اور گلوبلائزیشن کے عمل نے امریکہ کے مزدور طبقے اور ملکی مصنوعات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ لبرل ازم کے اصولوں کے تحت فری ٹریڈ کا زیادہ فائدہ چین، جرمنی، کینیڈا اور حتی میکسیکو جیسے ممالک کو ہوا ہے۔ لہذا اب ٹرمپ کا جھکاو لبرل ازم سے ہٹ کر نیو مرچنٹلزم اور پروٹیکشن ازم کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر رکسانا نیکنامی
 
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں قدم رکھتے ہی لبرل اقدار اور روایات کی دھجیاں اڑانا شروع کر دی ہیں۔ ان کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک اور حتی اپنے اتحادی مغربی ممالک کی جانب سے درآمدات پر ٹیکس عائد کرنا ایسا اقدام ہے جسے عالمی حلقے ایک قسم کی تجارتی جنگ قرار دے رہے ہیں اور اس بارے میں پابندیوں کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔ البتہ ہم اس بات کی بھی وضاحت کریں گے کہ ٹرمپ نے پابندیوں کو بھی مدنظر قرار دے رکھا ہے۔ لیکن اگر ہم گذشتہ مدت صدارت نیز حالیہ مدت صدارت کے دوران سیاسی اقتصاد کے شعبے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کا درست تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں نیو مرچنٹلزم کی اصطلاح بروئے کار لانی پڑے گی۔ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں حکومت کی جانب سے تجارتی سرگرمیوں میں مداخلت کا بنیادی مقصد ملکی معیشت اور صنعت کی حمایت کرنا ہے۔
 
کسی بھی حکومت کی جانب سے تجارتی سرگرمیوں میں مداخلت کے اہم ترین ہتھکنڈوں میں سے ایک درآمدات پر ٹیکس عائد کرنا ہے جبکہ دیگر ہتھکنڈے بھی پائے جاتے ہیں۔ درحقیقت مرچنٹلزم کے حامی اور پیروکار تجارت کی بنیاد ایسا کھیل تصور کرتے ہیں جس کا نتیجہ صفر نکلتا ہو۔ اس نقطہ نظر کے حامی افراد بین الاقوامی اقتصادی کیک کو ایک مستقل مقدار سمجھتے ہیں لہذا ان کی نظر میں اقتصاد کے کھیل میں آپ کا حصہ جس قدر زیادہ ہو گا اسی نسبت سے دیگر ممالک کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بھاری ٹیکس عائد کرنا ایک ایسے ہتھکنڈے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو مطلوبہ تجارتی سطح اور اقتصادی فائدے کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہیں گے کہ اس طرز فکر کے حامی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ درآمدات پر ٹیکس عائد کرنے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنے ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
 
البتہ زیادہ گہرائی میں سمجھنے کی خاطر یا دوسرے الفاظ میں بہتر نظریہ پیش کرنے کے لیے ہمیں نیو مرچنٹلزم مکتب فکر کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا ہو گا کہ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیاں اسٹریٹجک تجارت کے نظریات کی روشنی میں بھی جانچی جا سکتی ہیں جو مرچنٹلزم کے نظریے سے زیادہ جدید ہیں۔ اس نظریے کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خاص اہداف مدنظر قرار دے کر تجارتی سرگرمیوں میں مداخلت کرے اور درآمدات پر ٹیکس عائد کرے یا ملکی صنعت کو سبسیڈ فراہم کرے اور یوں ملکی صنعت کے فائدے میں عمل کرنے کی کوشش کرے اور اس طرح بین الاقوامی حریفوں کے مقابلے میں ملکی پیداوار کی حفاظت کرے۔ اس قسم کی پالیسیاں عام طور پر ایسی مصنوعات کے بارے میں اپنائی جاتی ہیں جن پر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ بازی زیادہ ہوتی ہے۔
 
اسی طرح مختلف مصنوعات کا خام مال جیسے فولاد اور ایلومینیم بھی انہی پالیسیوں کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ ایسی مصنوعات ہیں جن میں دوسری مصنوعات کی نسبت غیر یقینی صورتحال زیادہ پائی جاتی ہے۔ لہذا سیاسی اقتصاد کے شعبے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نقطہ نظر نیو مرچنٹلزم اور اسٹریٹجک تجارے کے نظریے کا مرکب قرار دیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران فولاد اور ایلومینیم جیسی اسٹریٹجک مصنوعات جن پر مقابلہ بازی بہت زیادہ ہے، 25 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا۔ لہذا ایسا نہیں تھا کہ ٹرمپ درآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے اس بات کو مدنظر قرار دے کہ کون سے ممالک امریکہ یا مغرب کے ہمنوا ہیں اور کون سے ہمنوا نہیں ہیں۔ ٹرمپ نیو مرچنٹلزم اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کو تاجروں کے انداز میں دیکھنے کا عادی ہے۔
 
یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے ممالک کے مقابلے میں امریکی تجارت کی سطح کم دیکھتا ہے اور اس عدم توازن کا احساس کرتا ہے لہذا حریف ممالک کے مقابلے میں امریکی تجارت کی سطح بڑھانے کے درپے ہے۔ اس کی نظر میں امریکہ کی تجارتی سطح جس قدر اوپر جائے گی اسی قدر زیادہ زرمبادلہ امریکہ میں منتقل ہو گا اور اس کے نتیجے میں امریکی معیشت ترقی کرے گی اور ملکی صنعت کی حمایت ہو گی اور بے روزگاری کی شرح بھی کم ہوتی جائے گی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کی کچھ مصنوعات خود کو بین الاقوامی حریفوں کی جانب سے شدید دباو میں محسوس کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملکی صنعت کی رضامندی حاصل کرنے کے درپے ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کی نظر میں درآمدات پر ٹیکس لگانا ایک مذاکراتی ہتھکنڈہ بھی ہے۔ ٹرمپ کو امید ہے کہ وہ اس اقدام کے ذریعے یورپی حکمرانوں سے مراعات لے سکتا ہے۔
 
اگرچہ یورپ، امریکہ اور ان کے اتحادی ممالک جیسے کینیڈا وغیرہ لبرل حکومتیں جانی جاتی ہیں اور سرمایہ دارانہ اقتصاد کی حامل ہیں لیکن ان کے تجارتی ڈھانچے قدرے ایکدوسرے سے مختلف ہیں جس کے باعث امریکہ کی جانب سے ان ممالک کی درآمدات پر ٹیکس عائد کیا جانا ممکن ہے۔ اس سوال کے کئی جواب ممکن ہیں کہ امریکہ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ کیونکہ اس کے مدنظر مختلف اہداف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پروٹیکشن ازم کا حامی ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ملکی مصنوعات کی حمایت ضروری ہے اور گلوبلائزیشن کے عمل نے امریکہ کے مزدور طبقے اور ملکی مصنوعات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ لبرل ازم کے اصولوں کے تحت فری ٹریڈ کا زیادہ فائدہ چین، جرمنی، کینیڈا اور حتی میکسیکو جیسے ممالک کو ہوا ہے۔ لہذا اب ٹرمپ کا جھکاو لبرل ازم سے ہٹ کر نیو مرچنٹلزم اور پروٹیکشن ازم کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: درآمدات پر ٹیکس عائد کے مقابلے میں پروٹیکشن ازم ملکی مصنوعات بین الاقوامی کی مصنوعات ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں کی جانب سے ملکی صنعت امریکہ کی کی حمایت ہیں اور کے حامی ٹرمپ کی ہے اور اور اس ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری