حریت کانفرنس کی ماورائے عدالت قتل، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
ترجمان حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں میں بڑے پیمانے پر خوف و دہشت پھیلانا اور انہیں اپنی جائز جدوجہد آزادی سے دور رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بارہمولہ اور کٹھوعہ اضلاع میں دو بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل اور کشمیری نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس، مسلم لیگ، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور تحریک حریت نے سرینگر سے اپنے بیانات میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور بلاجواز گرفتاریوں میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں 8 سو سے زائد نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں میں بڑے پیمانے پر خوف و دہشت پھیلانا اور انہیں اپنی جائز جدوجہد آزادی سے دور رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بارہمولہ اور کٹھوعہ میں دو شہریوں کے قتل کے بہیمانہ واقعات کی شفاف تحقیقات اور ملوث بھارتی فوجیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
ترجمان نے غیر قانونی طور پر نظربند تمام کشمیری نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بڑھتے ہوئے بھارتی جبر و استبداد کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی نے دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو اجتماعی طور پر سزا دی جا رہی ہے۔ روح اللہ مہدی نے بارہمولہ میں ٹرک ڈرائیور وسیم میر اور کٹھوعہ کے رہائشی مکھن دین کے حراستی قتل کی بھی مذمت کی اور ان کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثناء قابض حکام نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی اور ان کی بیٹی التجا مفتی کو سرینگر میں نظربند کر دیا اور انہیں شہید نوجوانوں وسیم میر اور مکھن دین کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے بارہمولہ اور کٹھوعہ جانے سے روک دیا۔ التجا مفتی نے ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ انتخابات کے بعد بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر حریت کانفرنس اور ان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔