ریاض میں لیپ 2025 کا آغاز، دنیا بھر سے ٹیکنالوجی ماہرین کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
ریاض میں آج سے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ایونٹ لیپ 2025 کا آغاز ہوگیا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور ڈیجیٹل انقلاب کے حوالے سے دنیا کے سب سے نمایاں کانفرنسز میں سے ایک ہے۔ یہ ایونٹ ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہورہا ہے اور 12 فروری تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں ریاض میٹرو منصوبے کا افتتاح، سعودی عرب کے ٹرانسپورٹ نظام میں انقلابی قدم
ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے اس ایونٹ کا مقصد مستقبل کے رجحانات کو سمجھنا، جدید حل تلاش کرنا اور عالمی سطح پر شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔ لیپ 2025 میں دنیا بھر سے مشہور ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور ماہرین کی بڑی تعداد شریک ہورہی ہے۔
کانفرنس میں مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، بگ ڈیٹا، بائیوٹیک، اور بلیک چین جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی جائے گی، جبکہ دنیا کے نامور ماہرین ان شعبوں میں ہونے والی پیشرفت اور ان کے اثرات پر گفتگو کریں گے۔ اس کے علاوہ لیپ 2025 میں مختلف ورکشاپس، سیمینارز اور پینل ڈسکشنز کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے، جہاں نئی اختراعات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آنے والے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔
اس ایونٹ کی ایک خاص بات (روکٹ فیول) اسٹارٹ اپ مقابلہ ہے، جس میں دنیا بھر سے 120 بہترین اسٹارٹ اپس شرکت کررہی ہیں۔ اس مقابلے میں جدید کاروباری آئیڈیاز پیش کیے جائیں گے، اور کامیاب اسٹارٹ اپس کو ایک ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔ یہ مقابلہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی سطح پر اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرےگا۔
یہ بھی پڑھیں ریاض، سعودی عرب میں پاکستانی لباس کی مقبولیت، بڑھتا ہوا رجحان
لیپ 2025 جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کی دوڑ میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی نمایاں کررہا ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے عالمی ماہرین، سرمایہ کار اور نئی نسل کے انوویٹرز ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر نہ صرف مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر بحث کررہے ہیں بلکہ ایسی شراکت داریاں بھی قائم کررہے ہیں جو دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی راہیں ہموار کریں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’لیپ 2025‘ wenews ٹیکنالوجی ماہرین جدید ٹیکنالوجی ریاض وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لیپ 2025 ٹیکنالوجی ماہرین جدید ٹیکنالوجی ریاض وی نیوز جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر لیپ 2025
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ