پیکاایکٹ بانی پی ٹی آئی کا قانون، منظور ہمارے دور میں ہوا: رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
نارنگ منڈی( ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر صنعت وپیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پیکاایکٹ دراصل بانی پی ٹی آئی کا قانون ہے صرف منظور ہمارے دور میں ہوا۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پنجاب کے شہر نارنگ منڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف دن رات محنت کررہے ہیں، وزیراعظم کی وجہ سے تمام وزرا کوبھی دن رات محنت کرنا پڑتی ہے، ہم رات12 بجے تک کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الحمدللہ! ایک سال میں مسلم لیگ ن نے ملک کو معاشی طورپر مضبوط کیا، ہماری ایک سال کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، پی ٹی آئی کی کوتاہیوں کا بوجھ مسلم لیگ ن کے سر پر ہے۔
وفاقی وزیرصنعت وپیداوار کا کہنا تھا کہ کھادوں کی قیمتوں میں استحکام آیا، کھاد کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں، پہلی بار ہوا کہ کھاد کی قیمت بڑھی نہ بلیک ہوئی، ہم نے معاشی ترقی کیلئے1 سال میں بیرون ممالک کے ریکارڈ دورے کئے، دوروں کے مثبت اثرات مل رہے ہیں۔
رانا تنویرحسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں ہر طبقے کو ریلیف فراہم کیا، صوبے میں طلبہ، کسانوں، مزدوروں، مینارٹیز سمیت سب کو فائدہ ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے ملک کو سری لنکا بنانے کی پوری کوشش کی، عمران خان کا مکمل ایجنڈا فتنے پر مشتمل ہے، پی ٹی آئی نے اداروں کو کمزور کیا۔
صوابی جلسہ جعلی حکومت کیخلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوا: بیرسٹر سیف
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔