پشاور:

پشاور کے تاجروں اور شہریوں نے حکومت سے اندرون شہر سیف سٹی پروجیکٹ منصوبے کا مطالبہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور کے بھائی ممبر قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور نے جھنڈا بازار محلہ دھونا پتی کا دورہ کیا۔

تنظیم تاجران خیبرپختونخواہ ترجمان شہزاد احمد صدیقی، کریمپورہ بازار صدر خرم شہزاد، چوک شادی پیر بازار صدر حاجی اسرار خان، دیگر عہدیداران، پاکستان تحریک انصاف ورکرز، اہلیان علاقہ، ہندو کمیونٹی کے زمہ داران نے  استقبال کیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سید بشارت حسین نے محلہ دھونا پتی میں ہونے والے تزہین و آرائش کے کام کی تفصیلات سے ممبر قومی اسمبلی فیصل امین گنڈا پور کو آگاہ کیا۔

فیصل امین گنڈا پور نے کہا کہ پشاور صوبے کا کیپیٹل ہے اور صوبائی حکومت اندرون شہر دیگر گلیوں اور پورے پشاور میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کے لئے سنجیدہ ہے۔

علاقہ عمائدین نے فیصل امین گنڈا پور سے مطالبہ کیا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت اندرون شہر کے لئے فوری اقدامات کئے جائے تاکہ شہر کو امن و امان کے حوالے سے مزید محفوظ بنانے میں مدد مل سکے اور اس شہر کو خوبصورتی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔

تاجر برادری نے سیف سٹی پروجیکٹ کیلیے صوبائی حکومت کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصل امین گنڈا امین گنڈا پور

پڑھیں:

محصولات کا ہدف پورا کرنے کیلیے نئے ٹیکس کا ارادہ نہیں،حکومت

اسلام آباد:

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ محصولات کے ہدف میں ایک کھرب 56 ارب روپے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس کا کوئی نیا ٹیکس لگانے کا ارادہ نہیں ہے۔

یہ بات گزشتہ روز ایک عوامی سماعت کے دوران کہی گئی، سماعت کے دوران پاور ڈویژن افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ سرکاری بجلی کی ترسیل کرنے والے اداروں کے ساتھ ٹیرف پر نظر ثانی کے بعد صارفین کو ایک کھرب 50 ارب روپے تک کی بچت ہوگی جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ وفاقی حکومت کو محصولات میں اتنی ہی کمی واقع ہوگی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت کا کوئی نیا ٹیکس نافذ کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

تاہم افسران نے عندیہ دیا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بجلی صارفین کو بلوں میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی زر اعانت (سبسڈی) میں کمی کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنے کیلیے ایف بی آر نے ہفتے کی چھٹی ختم کردی

سماعت کے دوران حاضرین نے حکومتی کاوشوں کو سراہا جس کے تحت پاور پلانٹس سے دوبارہ معاہدے کیے گئے تاکہ استعدادی صلاحیت کی مد میں ادائیگیوں میں کمی لائی جاسکے، واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں پاور پلانٹس سے دوبارہ معاہدے کیے ہیں جن کے تحت اب وفاقی حکومت ان پلانٹس کو اتنی ہی ادائیگی کرے گی جتنی بجلی وہ ان پلانٹس سے اپنی ضرورت کی بنیاد پر خریدے گی۔

اس کے علاوہ استعدادی پیداواری صلاحیت کی مد میں ایک مخصوص رقم ادا کی جائے گی، سماعت  میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ حکومت نے سوئی سدرن گیس سے 220 ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ سوئی ناردن سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کٹوتی کی ہے جبکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان پاور پلانٹس کو مائع قدرتی گیس کے ساتھ ملا کر فراہم کرے گی بجلی کے نرخوں میں مزید کمی لائی جاسکے۔ 

سماعت کے دوران حاضرین کو بتایا گیا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے جن سرکاری پاور پلانٹس کے ساتھ دوبارہ معاہدے کیے ہیں تاکہ صارفین پر بجلی کے بلوں کے بوجھ میں کمی لائی جاسکے ان میں نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ کمپنی بلوکی، نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ کمپنی حویلی بہادر شاہ، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ گدو اور نیشنل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ نندی پاور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’’ملیریا کو ختم کرنا ہے‘‘ قابلِ علاج بیماری کیخلاف جنگ کیلیے وزیراعظم کا پیغام
  • توشہ خانہ ٹو کیس؛ عمران خان، بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں سماعت کیلیے مقرر کرنیکا حکم
  • محصولات کا ہدف پورا کرنے کیلیے نئے ٹیکس کا ارادہ نہیں،حکومت
  • خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کا 8واں کیس رپورٹ
  • بھارتی جارحیت پر خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بھارتی حکومت کے جارحانہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت
  • ملکی بقا کیلئے ہم سب ایک پیج پر ہیں، حکومت اور اپوزیشن ملکر بھارت کو جواب دیں: حافظ نعیم الرحمان 
  • بھارتی جارحیت پر خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
  • پشاور: افغان مہاجرین کی واپسی مدت میں توسیع کی قرارداد منظور، افغان پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ
  • مائنز اینڈ منرلز بل امریکی اشارے پر آیا، ہماری صوبائی خودمختاری ختم ہوجائے گی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
  • عمران خان کو معدنی وسائل ایکٹ پر تحفظات، وزیراعلی علی امین گنڈا پور کو طلب کرلیا