مینارِ پاکستان جلسہ؛ تحریک انصاف کا پلان بی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
لاہور:
پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کا پلان بی سامنے آ گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسے کے معاملے میں پارٹی نے اجازت نہ ملنے کی صورت میں پلان بی مرتب کرلیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ مینار پاکستان گراؤنڈ کے علاوہ کسی متبادل جگہ پر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اجازت نہ ملنے کی صورت میں پنجاب کے تمام اضلاع میں احتجاج کیا جائے گا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کو اپنے اپنے حلقے میں احتجاج کی ہدایت کی جائے گی۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ لاہور میں بھی تمام حلقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ لاہور کے اہم مقامات لبرٹی چوک ، آزادی چوک اور مال روڈ پر احتجاج کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت جلسے کی اجازت نہ دے کر ہمارے احتجاج کو کامیاب بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔