امریکا میں ایک سینٹ کا سکہ ختم؟ ٹرمپ کا نیا حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خزانہ کو ایک سینٹ کے نئے سکے بنانے اور جاری کرنے سے روک دیا، پرانے سکے مارکیٹ میں موجود رہیں گے۔
میڈیارپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امر کا اعلان اپنی سوشل میڈیا سائٹ پر کیا ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’بہت طویل عرصے سے امریکا ایک سینٹ کے ایسے سکے بنا رہا ہے جن کی قیمت 2 سینٹ سے زیادہ ہے۔ یہ بہت فضول ہے! میں نے اپنے سیکرٹری آف یو ایس ٹریژری کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے سکوں کی پیداوار بند کر دیں۔ آئیے اپنے عظیم قوم کے بجٹ سے پیسے بچائیں ، چاہے وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق پینی یا سینٹ کے سکہ کی پیداوار پر زیادہ لاگت گزشتہ ماہ ایلون مسک کے حکومتی کارکردگی کے محکمے DOGE کی جانب سے ایکس پر پوسٹ کیے جانے کے بعد اسےختم کرنے کی تحریک چل رہی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق 2023 میں امریکی ٹکسال کا کہنا تھا کہ اس کی جانب سے 4.
مالی سال 2024 میں، امریکی ٹکسال نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ امریکی پینی کی پیداوار اور تقسیم پر تقریباً 3.7 سینٹ خرچ ہوتے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ جس کی وجہ زنک اور تانبے سمیت دھاتوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
2013 میں، بروکنگ انسٹی ٹیوشن کی ویب سائٹ پر مطالبہ کیا گیا کہ امریکا میں نہ صرف ایک سینٹ کا سکہ بلکہ’’ نکل’’ جو سب سے کم قیمت کا سکہ ہے کی پیداوار کو بھی روک دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی پیداوار ایک سینٹ سینٹ کے
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔