امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کردیے، ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تو غزہ جنگ بندی ہفتے کے دن 12 بجے ختم ہوجائے گی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کو شاید اسرائیلی وزیراعظم سے بھی بات کروں۔

انہوں نے کہا کہ ہفتہ دن 12بجے تک تمام یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو سیز فائر ختم کرنے کا کہوں گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اردن اور مصر اگر پناہ گزینوں کو نہیں لیتے تو ان ممالک کی امداد بند کرسکتے ہیں، میرا خیال ہے کہ اردن پناہ گزین لینے پر تیار ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدر سے اس ہفتے بات کروں گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیل اور المونیم پر 25 فیصد ٹیرف عائد کررہے ہیں، گاڑیوں، الیکٹرونک چپس اور ادویات پر بھی ٹیرف کے لیے غور کررہے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 روز میں جوابی ٹیرف عائد کریں گے، دوسرے ممالک ٹیرف پر جوابی کارروائی کریں تو اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تا حکم ثانی مؤخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ پٹی کے شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اور امدادی سامان کے داخلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینیوں کو ہدف بنا کر قتل کررہی ہے، یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کا فیصلہ اسرائیل کو پابند کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے غزہ پٹی سے متعلق منصوبے پر عسکری مزاحمت زیر غور ہے، حماس کے اعلان کے بعد اسرائیل میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، یرغمالیوں کی رہائی مؤخر ہونے پر تل ابیب میں اسرائیلی شہریوں نے احتجاج کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کا کہنا

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری