پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی، 180 ممالک کی فہرست میں 135ویں نمبر پر آ گیا: ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) عالمی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) 180 ممالک میں دو درجے کمی کے بعد پاکستان 135 ویں نمبر پر آ گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2024ء (سی پی آئی) جاری کردی۔اس فہرست میں 180 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا 135واں نمبر ہے جو کہ گزشتہ برس 133 واں نمبر تھا۔اس طرح موجودہ فہرست کے مطابق پاکستان دنیا کا 46 واں کرپٹ ترین ملک بن گیا جب کہ گزشتہ برس 48 واں ملک تھا۔کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں بھی پاکستان کا اسکور 100 میں سے 27 ہے جو کہ گزشتہ برس 25 تھا۔ڈنمارک وہ ملک ہے جہاں دنیا بھر میں سب سے کم کرپشن ہے اس کے بعد فن لینڈ اور سنگاپور کا نمبر آتا ہے۔سب سے زیادہ کرپٹ ممالک میں جنوبی سوڈان، صومالیہ اور وینرویلا سرفہرست ہیں۔پاکستان کے علاوہ جن ممالک میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اْن میں ایران، عراق اور روس شامل ہیں۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ورائٹیر آف ڈیموکریسی پروجیکٹ میں پاکستان کی تنزلی ہوئی ہے۔دوسری جانب اکنامکس انٹیلی جنس یونٹ میں بھی پاکستان کا اسکور 20 سے کم ہوکر 18 ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔