Nai Baat:
2026-07-24@01:12:59 GMT

اروِند کجریوال بمقابلہ عمران خان

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT

اروِند کجریوال بمقابلہ عمران خان

دہلی کی اسمبلی میں اروِند کجری وال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی شکست کی خبرواقعی ایک بریکنگ نیوز تھی جسے ہم نے روزنامہ’ نئی بات‘ میں لیڈ اور سپرلیڈ کے درمیان چارکالم نمایاں کر کے شائع کیا۔ ہم سب نے اُن کی ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں وہ دہلی میں تعلیم ، صحت، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں کے وہ کارنامے بیان کر رہے تھے جو ہمارے لئے حیران کر دینے والے تھے جیسے مفت پانی، مفت بجلی اور مفت سفر کی سہولتیں۔ مجھے ان کا وہ آئیڈیا بھی بہت پسند آیا تھا جس میں وہ دہلی میں چوبیس گھنٹے تک جاگنے والے کاروباری مراکز بنانے کی بات کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ان کا دہلی کبھی نہیں سوئے گا، ہمیشہ جاگتا رہے گا۔ مجھے یاد ہے چند برس پہلے میں نے ان کی ایک ویڈیو کو تعریفی کلمات کے ساتھ شئیر کیا تھا۔ اروند کی مقبولیت دہلی سے نکل کے پنجاب تک پہنچی تھی اور ا ن کی پارٹی نے وہاں بھی حکومت بنائی تھی۔ بنیادی طور پر انا ہزارے کا کرپشن کے خلاف نعرہ کام کر گیا تھا جس طرح پاکستان میں عمران خان نے پرانی پارٹیوں کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے مقبولیت حاصل کی تھی مگر کجری وال اور عمران خان میں دو بنیادی فرق رہے، پہلا یہ کہ کجریوال نے اپنی پہلی حکومت میں وہ بہت کچھ کر کے دکھا دیا تھا جس کے وہ دعوے کرتے تھے، نعرے لگاتے تھے مگر عمران خان مکمل طور پر ناکام رہے، دوسرا فرق ا ن کے ردعمل کا ہے جس پر آگے چل کر بات کریں گے۔
اروِند کجریوال کی شکست پر میں نے اپنے بہت سارے سینئر اور معتبر صحافیوں کو بھی حیران دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ یہ شکست بیانئے کے مقابلے میں کارکردگی کی شکست ہے۔ میرا پہلا تاثر بھی یہی تھا جب تک میں نے دلی کے سیاسی تجزیہ کاروں سے نہیں جانا کہ معاملہ کیا ہے۔ کجری وال نے دہلی تک دس برس تک حکمرانی کی اور ان کا پہلا دور ویسا ہی تھا جیسا ہم سب کے ذہنوں میں ’ پرسیپشن‘ ہے مگر وہ اپنے دوسرے دور میں اپنے ہی کام اور معیار کو برقرار نہیں رکھ پائے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نہ وہ کوئی میگا پراجیکٹ دے پائے اور نہ ہی دہلی کی صفائی ستھرائی برقرار رکھ پائے۔ سڑکیں ٹوٹنے لگیں اور گلیوں میں دھول اڑنے لگی۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ اروند کجری وال پر شراب کے ٹھیکوں میں رشوت کے الزامات لگ گئے اور اس پر ان کی گرفتاری بھی ہو گئی۔ کجری وال دوسرے دور میں اپنے نظرئیے اور کمٹ منٹ ہی نہیں بلکہ پارٹی پر بھی گرفت کھوتے ہوئے نظر آئے۔ یہ بات نہیں کہ انہوں نے بیانئے کی جنگ نہیں لڑی کیونکہ میں درُوو راٹھی جیسے کامیاب سوشل میڈیا انفلوئنسر کی اس پوری ویڈیو کو دیکھ رہا تھا جو عام آدمی پارٹی کی طرف سے بنوائی گئی تھی۔ پونے تین کروڑ سبسکرائبرز والے درُوو راٹھی، جنہیں عمران ریاض خان کی طرح بڑا انفلوئنسر سمجھا جا سکتا ہے اور جن کی ویڈیوز ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں ملین ویوز لے جاتی ہیں، کی سامنے لائی گئی ویڈیو کوئی تحقیقاتی سٹوری نہیں تھی بلکہ ایک پارٹی کی میڈیا کمپین تھی مگر دوسری طرف ریاستی انتخابات سے پہلے ہی رائے عامہ کے جائزوں میں یہ بات کہہ دی گئی تھی عام آدمی پارٹی ہار جائے گی۔ پانچ فروری کو انتخابات ہوئے اور آٹھ فروری کو نتائج آئے تو بی جے پی دہلی اسمبلی کی ستر نشستوں میں سے دو تہائی لے گئی، عام آدمی پارٹی ، بی جے پی سے آدھی نشستیں بھی نہ لے سکی مگر بڑا سانحہ یہ ہوا کہ کانگریس ان دونوں جماعتو ں کی دھول تک بھی نہ پہنچ سکی اور کلین سویپ ہو گئی مگر یہاں اروند کجری وال نے ایک مرتبہ پھر خو د کو پاکستان کے عمران خان سے مختلف ثابت کیا کہ انہوں نے ویڈیو پیغام میں اپنی پارٹی کی شکست کو نہ صرف کھلے دل سے تسلیم کر لیا بلکہ بی جے پی کو دعوت دی کہ وہ دہلی کی تعمیر و ترقی کے اپنے پروگرام پر عمل کرے،وہ اس کا ساتھ دیں گے۔
پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں ریاستی اور مرکزی اسمبلیوں کے انتخابات کا نظام پیچیدہ ہے مگر پاکستان ہی کے مقا بلے میں وہاں انتخابات کے انعقاد کے کئی کئی روز بعد آنے والے نتائج بھی تسلیم کئے جاتے ہیں اور ہمارے چوبیس گھنٹوں بعد آنے والے نتائج پر بھی ٹنٹنہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے ووٹرز کے ٹرینڈز بھی تقریبا ایک جیسے ہی ہیں۔ دونوں ممالک کے ووٹرز بیانئے سے متاثر بھی ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ کارکردگی بھی چاہتے ہیں سو یہ تقسیم چلتی رہتی ہے۔ ہمارے کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اسے دھاندلی قرار دیا کیونکہ ان کے پاس شکست کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے اور وہ ہوتی ہے دھاندلی۔ہمارے بہت سارے لوگ سازشی تھیوریوں کے ساتھ بہت زیادہ جاتے ہیں جیسے ایک دو ر میں کہا جاتا تھا کہ جو بھی کروا رہا ہے امریکہ ہے اور اب عمران خان اوران کے ساتھیوں کی آہ و بکا ہے جو کچھ بھی ہو رہا ہے فوج کروا رہی ہے، بہرحال، کجریوال نے انتخابی نتائج تسلیم کر کے دھاندلی والے بیانئے کو خود ہی مسترد کر دیا ہے۔ اگر ہم صورتحال کا منطقی اور عملی جائزہ لیں تو اٹل بہاری واجپائی کی مرکزی حکومت کے قیام کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مرکزی حکومت دہلی کی تعمیر وترقی کے لئے فنڈز کے اجرا سے لے کر انتظامی نوعیت کے مسائل پیدا کرنے جیسی رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ اب ووٹروں نے سوچا کہ اس تنازعے کو ہی ختم کرتے ہیں۔ بی جے پی کو ووٹ دیتے ہیں تاکہ وہ دہلی میں میگا پراجیکٹس لا سکے۔ ہمارے ہاں یہ سوچ بلدیاتی انتخابات میں پائی جاتی ہے جب یونین کونسلوں میں صوبائی حکومتوں کے امیدوار برملا کہتے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو اگر تم نے تھانے کچہری میں کام کروانے ہیں، گلیاں پکی کروانی ہیں یا ٹیوب ویل لگوانے ہیں۔
جو میڈیا اروند کجری وال کو ہیرو بنا رہا تھا وہی اس کو زیرو بھی کر رہا تھا جیسے یہ خبریں کہ انہوں نے اپنے دفتر میں تین برس میں ایک کروڑ روپے چائے پانی پر ہی خرچ کر دئیے۔ یہ اگرچہ پرانی خبر ہے مگر چھ ماہ کی قید نئی خبر تھی۔ خود اروند کجریوال نے یہ چیلنج دیا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے بطور وزیراعلیٰ استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عوام کے پاس جائیں گے اور جب وہ انہیں ایماندار مانیں گے تب ہی وہ واپس کرسی پر آئیں گے مگر عملی طور پر یہ ہوا کہ وہ مظلومیت کارڈ کھیلنے اور بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے حالانکہ ایک وقت یہ بھی آیا تھا کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔ اس آخری ایک برس نے کجری وال کو بہت کچھ نیا سیکھا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ دوبارہ ابھریں گے یا پاکستان کے عمران خان کی طرح نہ صرف اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں گے بلکہ مزید سنگین غلطیاں کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: عام آدمی پارٹی انہوں نے پارٹی کی کجری وال بی جے پی رہا تھا کی شکست رہے تھے کے ساتھ دہلی کی میں وہ ہے اور وال نے ہے مگر تھا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف