گوگل پر سب سے زیادہ سرچ ہونے والی انڈین فلم کا نام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
معروف بالی وڈ اداکارہ سانیہ ملہوترا کی نئی فلم 'مسز' نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی۔
فلم نے ZEE5 پر سب سے بڑی اوپننگ حاصل کی اور گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی فلم بن کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
ہدایتکارہ آرتی کداو کی فلم 'مسز' دراصل ملیالم فلم "دی گریٹ انڈین کچن" کا آفیشل ہندی ریمیک ہے۔ فلم کی کہانی ریچا نامی ایک تربیت یافتہ ڈانسر کے گرد گھومتی ہے، جو شادی کے بعد گھریلو ذمے داریوں میں الجھ کر اپنی شناخت کھونے لگتی ہے۔
اس فلم نے خواتین پر شادی کے بعد عائد سماجی دباؤ کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، جس پر ناظرین کی زبردست پذیرائی ملی۔
ZEE5 نے اپنے آفیشل انسٹاگرام پیج پر فلم کی غیر معمولی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے اعلان کیا کہ 'مسز' ان کے پلیٹ فارم کی سب سے بڑی اوپننگ حاصل کرنے والی فلم بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل پر بھی یہ فلم سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی فلم بن چکی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔
'مسز' کو 2023 کے ٹالین بلیک نائٹس فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا اور یہ 2024 کے نیویارک انڈین فلم فیسٹیول کی اختتامی فلم بھی تھی۔ اس فلم میں زبردست اداکاری پر سانیہ ملہوترا کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی دیا گیا، جس نے فلم کی کامیابی میں مزید اضافہ کیا۔
ایک انٹرویو میں ہدایتکارہ آرتی کداو نے بتایا کہ "مجھے لگا کہ یہ کہانی شمالی بھارت کے ناظرین تک پہنچنی چاہیے۔ میں نے یہ فلم اپنی ماں کے لیے بنائی، جو اصل فلم 'دی گریٹ انڈین کچن' کو مکمل نہیں دیکھ پائی تھیں۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔