اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکریٹری برائے آئی ٹی سبین غوری کاکہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس سال کے وسط تک فائیو جی ٹیکنالوجی لانچ کر دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری برائے آئی ٹی نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سپیڈ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے زیر سمندر کیبلز کی خرابیوں کو دور کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ کی بہتری کے لئے آپٹک فائبر کیبل کی بہتری کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

سبین غوری نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں بہتری کے لیے کام ہو رہا ہے، تاہم کچھ مسائل بین الاقوامی سطح پر ہیں، رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ نے ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے وضاحت دی کہ زیر سمندر کیبلز میں خرابی کے باعث مشکلات پیش آ رہی ہیں اور تین سے چار سب میرین کیبلز کی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کی لانچ سے انٹرنیٹ کی سپیڈ میں نمایاں بہتری آئے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ سیٹلائٹ سروس کے قوانین بھی مکمل ہوچکے ہیں، جس سے بھی انٹرنیٹ کی کیفیت میں بہتری آئے گی۔

رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے سوال کیا کہ پرائیویٹ آئی ٹی کمپنیوں کس کو جواب دہ ہیں؟ پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ اس وقت ہمیں بھی یہ معلوم نہیں کہ کون سی مچھلی کیبلز کو نقصان پہنچاتی ہے، اور اس طرح کے مسائل عالمی سطح پر ہوتے ہیں جس سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انٹرنیٹ کی کہا کہ

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان

لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔

دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔

دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔

درخواست کیسے دیں؟

اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔

حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع