وزیرِ اعظم نے سول سروسز اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیٹی قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سول سروسز کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، سول سروسز اسٹرکچر کی بہتری اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت سول سروسز کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس کو سول سروسز اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سول سروسز میں بھرتی، ٹریننگ، کارکردگی کے جائزے، تنخواہوں کی بہتری اور ترقی کے حوالے سے مشاورت کے بعد تجاویز مرتب کی جارہی ہیں۔
اجلاس کو خطے کے دوسرے ممالک میں سول سروسز کی اصلاحات کا پاکستان کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گورننس کی بہتری، عام شہری کی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بہترین ٹیلنٹ کی میرٹ پر بھرتیوں کو سول سروسز اصلاحات کا محور رکھتے ہوئے سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی.
وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ایک ماہ میں تفصیلی مشاورت کے بعد اصلاحات پر مبنی جامع سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ کمیٹی میرٹ پر بہترین ٹیلنٹ کی بھرتی، ترقی کیلئے مخصوص اہداف پر مبنی کے پی آئیز، اے سی آر نظام کی بہتری و مؤثر متبادل کے حوالے سے سفارشات مرتب کرکے پیش کرے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی و جدید نظام کے حوالے سے افسران کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے لائحہ عمل بھی سفارشات کا حصہ ہو، ایسی سفارشات مرتب کی جائیں جو پائیدار نظام کی بنیاد بنیں، گورننس کی بہتری اور سول سروسز کو عصری تقاضوں سے متواتر ہم آہنگ کرنے کا مستقل نظام قائم کریں۔
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ سول سروسز میں عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے اور اسکا معاون بنانے کیلئے اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر، طارق باجوہ، ڈاکٹر جہانزیب خان سیکریٹری ایپکس کمیٹی ایس آئی ایف سی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے حوالے سے سول سروسز کی بہتری
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔