قومی اسمبلی، آئی ایم ایف وفد چیف جسٹس سے کیوں ملا، اپوزیشن رکن: دعوت دی ہو گی، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی اجلاس میں سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ خبریں پھر آ رہی ہیں کہ یوٹیلٹی سٹورز کو بند کیا جا رہا ہے۔ وزیر صنعت و پیداوار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کو بند نہیں کیا جا رہا۔ قائمہ کمیٹی میں بھی اس حوالے سے سیر حاصل بحث ہوئی۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ آصفہ بھٹو کے اس سوال کا میں نے جواب دیا تھا، اب بھی کہتا ہوں کہ یوٹیلٹی سٹورز کی ری سٹرکچرنگ کر رہے ہیں بند نہیں کر رہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ بند پاور پلانٹس کے ملازمین نے وہاں کی اربوں روپے کی مشینری کو خراب کیا۔ بند پلانٹس کے ملازمین صارفین پر بوجھ ہیں۔ صارفین پر ان ملازمین کی وجہ سے 7 ارب روپے کا بوجھ ہے۔ بند پلانٹس کی مشینری کو بیچنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ سرکاری دو پلانٹس کے علاوہ تمام بند ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے ایوان میں آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات پر سوال اٹھایا ہے۔ نور عالم خان نے کہا کہ بتایا جائے آئی ایم ایف وفد کس حیثیت میں اور کس سے پوچھ کر چیف جسٹس سے ملا؟۔ علاوہ ازیں صوابی میں جو جلسہ ہوا ہے اس کے متعلق بھی میڈیا میں بڑی قیاس آرائی ہو رہی ہے۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی کے اندر بھی ان کی پارٹی کی یہی پوزیشن ہے، یہی صورت حال پہلے تھی، کسی اور کو بھی انہوں نے پارٹی سے نکالا ہے۔ پارٹی سے کچھ پرانے لوگ برطرف ہو چکے ہیں، جس پارٹی کو صرف اقتدار چاہیے، یہ بڑا ایک فطری عمل ہے، اب اقتدار نہیں رہا آزمائش کا دور ہے، سیاسی پارٹیوں کی ٹیسٹنگ تب ہوتی ہے جب ان پر مشکل دور ہوتا ہے، سمجھتے ہیں ان کی سربراہی میں کتنے کامیاب ہو پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہیں اور پروگرام چل رہا ہے، میرا خیال ہے کہ ہمارے ان کے ساتھ دیگر معاملات طے پا جائیں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات پہلے سے جو بھی ہیں، ہم ان پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ دعوت دی ہو گی تو آئی ایم ایف وفد چیف جسٹس سے ملا۔ ان شاء اللہ تعالی عوام کو خوشی ہوگی، سارے انڈیکیٹرز فرسٹ کلاس ہیں۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ایوان میں وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز کی عدم موجودگی کا معاملہ قیادت کے علم میں لاؤں گا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی سبین غوری کی جانب سے بتایا گیا کہ اس سال کے وسط تک انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ جائے گی اور رواں سال کے وسط تک فائیو جی بھی لانچ کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی کئی وجوہات ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کوئی ویڈیو ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتی، انٹرنیٹ چلتا ہی نہیں۔ رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے کہا کہ بلاول صاحب نے درست کہا تھا کہ پتا نہیں کون سی مچھلی ہے جو صرف پاکستان ہی کی کیبل کھا جاتی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری نے جواب دیا کہ کوئی نہ کوئی مچھلی تو ہے جو انٹرنیٹ کیبل کاٹ جاتی ہے، مگر کون سی مچھلی ہے ہمیں بھی نہیں پتا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا عملی طور پر بہت کام ہے۔ فیڈرل فلڈ کمشن کے سربراہ کی تقرری نہیں ہو سکی۔ معاملہ متعلقہ حکام تک پہنچاؤں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ئی ایم ایف وفد قومی اسمبلی نے کہا کہ چیف جسٹس
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔