14 فروری تک حج واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں حج درخواست منسوخ کردی جائے گی،وزارت مذہبی امور
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 فروری2025ء) وزارت مذہبی امور نے سرکاری سکیم کے حج درخواست گزاروں کو متنبہ کیا ہے کہ 14 فروری تک حج واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں حج درخواست منسوخ کردی جائے گی۔
(جاری ہے)
وزارت مذہبی امورکے ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری سکیم کے حج درخواست گزاروں کے حج واجبات کی تیسری قسط کی ادائیگی اور پیکج کی تبدیلی کی حتمی تاریخ 14 فروری مقرر کی گئی ہے، مقررہ تاریخ تک واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں ان کی حج درخواست منسوخ ہوسکتی ہے اس لئے تمام درخواستگ گزاروں کو چاہئے کہ وہ مقررہ تاریخ تک واجبات کی تیسری قسط اپنے متعلقہ بنکوںمیں جمع کرادیں اور اگر وہ پیکج تبدیل کرانا چاہتے ہیں تو اس قسط کے ساتھ پیکج کی تبدیلی کی درخواست بھی دے سکتے ہیں،14 فروری حتمی تاریخ ہے اس کے بعد پیکج کی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔
\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حج درخواست واجبات کی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔