کانگریس ممبر آف پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ اڈانی گروپ کے معاملے میں بھارتی وزیراعظم کا رویہ مشکوک ہے، خاص طور پر جب امریکہ جیسے ملک میں انکے خلاف بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی پر اڈانی گروپ کی بدعنوانی کے حوالے سے سوالات پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے جان بوجھ کر گوتم اڈانی کے خلاف الزامات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور ان کے امریکی دورے کے دوران اڈانی سے متعلق سوالات پر مودی نے ذاتی معاملہ کہہ کر گریز کیا۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ جب کسی دوست کا فائدہ مودی کے لئے قوم کی خدمت بن جائے، تو وہ بدعنوانی اور رشوت کو ذاتی معاملات میں بدل دیتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مودی کے اس رویے کو عوام کے لئے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ اگر وزیراعظم ہندوستان میں اپنے دوستوں کے مفادات کے لئے قومی مفاد کو قربان کر رہے ہیں، تو یہ ملک کی سیاست اور معیشت کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ اڈانی گروپ کے معاملے میں مودی کا رویہ مشکوک ہے، خاص طور پر جب امریکہ جیسے ملک میں ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی دورے کے دوران اڈانی گروپ کے خلاف کئے گئے سوالات پر کہا تھا کہ یہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور ان کی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ سوالات نہ تو ہندوستانی سیاست کا حصہ ہیں اور نہ ہی ان کی حکومت اس پر کوئی رائے دے سکتی ہے۔ نریندر مودی نے مزید کہا کہ ان کے لئے اڈانی گروپ کے کاروباری تعلقات نجی معاملہ ہیں اور ان کی حکومت کسی بھی کاروباری شخص کی مالی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ راہل گاندھی کے مطابق مودی کا یہ جواب ہندوستان میں چھپے ہوئے بدعنوانی کے معاملات کو منظرعام پر لانے سے بچنے کی ایک کوشش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اڈانی گروپ کے ساتھ مودی کے تعلقات کا حساب نہیں لیا جاتا، تب تک ہندوستانی عوام کو انصاف نہیں مل سکتا۔ ایسے میں راہل گاندھی نے نریندر مودی کی خاموشی کو مزید متنازعہ بنایا اور کہا کہ جب تک اڈانی کے خلاف تحقیقات نہیں ہوگی، یہ معاملہ ملک کے لئے ایک سنگین چیلنج بن کر رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے کے خلاف کے لئے کہا کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے