کراچی : پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کے بعد کہا کہ ہم نے پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ہمیں لگا کہ دوسری اننگز میں وکٹ مزید مشکل ہو جائے گی، لیکن ان کے بولرز نے ہم پر دباؤ برقرار رکھا۔

محمد رضوان نے کہا ہمارا ہدف 280 رنز تھا، لیکن مخالف ٹیم نے زبردست بولنگ کر کے ہمیں اس ہدف تک پہنچنے نہیں دیا۔ ہم  رنز کم بنا سکے، اور ان کی باؤلنگ واقعی شاندار تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اور آغا سلمان شراکت بنانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن وہ ہمیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دے رہے تھے۔ ہمارا ہدف 300 نہیں، بلکہ 280 تھا، لیکن ہم وہاں تک نہیں پہنچ سکے۔ میری وکٹ بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

رضوان نے کہا ہمیں فیلڈنگ میں بہتری لانا ہوگی، یہ وہ شعبہ ہے جہاں ہم اب بھی کمزور ہیں۔انہوں نے اسپنر ابرار احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا ابرار نے واقعی بہت زیادہ بہتری دکھائی ہے، لیکن ہمیں دوسرے کھلاڑیوں کو بھی بہتر کرنا ہوگا۔ رضوان نے کہا کہ ہماری نظر چیمپئنز ٹرافی 2025 پر بھی ہے، اسی لیے ہم نے آج پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاکہ ہم اپنی تیاری کو مضبوط بنا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رضوان نے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے خراب صحت کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی عمر 76 برس ہے اور وہ اپریل 2023 سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے

صدر کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد شہاب الدین نے حالیہ طبی معائنے کے بعد بتایا کہ انہیں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری لاحق ہے جس کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر وقت کے لیے بے ہوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے باعث وہ آئینی منصب کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر ہوں گے

بیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے اسپیکر صدر کی آئینی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں لکھا کہ جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل متاثر ہونے کے باعث وہ صدر جیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں مزید نبھانے کے قابل نہیں رہے۔

شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے

محمد شہاب الدین جنہیں عام طور پر ’چپو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سنہ 2023 میں پارلیمنٹ کے ذریعے اس وقت صدر منتخب ہوئے تھے جب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اقتدار میں تھی۔

مزید پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

تاہم  سنہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت منتقل ہو گئیں، جس کے بعد صدر شہاب الدین پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔

فون پر رابطے کے الزامات

رواں سال مئی میں لندن میں زیر علاج ہونے کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تاہم صدر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

عوامی لیگ پر پابندی برقرار

محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد شیخ حسینہ کا اعلیٰ ریاستی عہدوں پر موجود ایک اور اہم اتحادی بھی منظر سے ہٹ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے جبکہ سال 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد پارٹی کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ