صدر ‘وزیراعظم نے ترک صدر سے تحفہ میں ملی گاڑیاں توشہ خانہ جمع کرا دیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+نمائندہ خصوصی ) وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی صاحبزادی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے تحفے میں ملنے والی اپنی اپنی گاڑی توشہ خانہ میں جمع کرا دیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ترک صدر رجب طیب اردگان نے الیکٹرک گاڑی تحفے میں دی تھی، وزیراعظم نے گزشتہ روز ہی گاڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی تھی۔ کابینہ سیکرٹریٹ نے گاڑی توشہ خانہ میں جمع ہونے کی تصدیق کر دی۔ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی ترک صدر کی جانب سے ملنے والی گاڑی توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔ ترک صدر کی جانب سے آصفہ بھٹو کو بھی ترکیہ کی بنی الیکٹرک گاڑی کا تحفہ دیا گیا تھا۔ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے ترک صدر رجب طیب اردگان کی گاڑی ڈرائیو کرنے کو ناقابلِ فراموش لمحہ قرار دے دیا۔ پاکستانی خاتونِ اول نے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ صدر طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ان کی گاڑی چلانا ایک یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر 2 صدور کے ساتھ یہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گاڑی توشہ خانہ میں جمع
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔