سیکیورٹی فورسز کی 2 کارروائیاں، 15 خارجی ہلاک، لیفٹیننٹ سمیت 4 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ کارروائیوں میں 15 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ محمد حسان سمیت 4 جوانوں نے بھی مادرِ وطن پر اپنی جان نچھاور کر دی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ہتھالہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا جہاں خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔
بیان کے مطابق دورانِ آپریشن، سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 خوارج، بشمول ان کے سرغنے ہلاک ہو گئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق مارے جانے والوں میں خارجی رِنگ لیڈر فارمان عرف ثاقب، خارجی امان اللہ عرف توری، خارجی سعید عرف لیاقت خارجی بلال شامل ہیں۔
بیان کے مطابق یہ تمام دہشت گرد علاقے میں متعدد تخریبی سرگرمیوں میں ملوث اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے، ایک اور کارروائی میں، شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں سیکیورٹی فورسز نے 6 خوارج کو مؤثر طریقے سے جہنم واصل کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف اس کارروائی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ محمد حسان ارشف (عمر 21 سال، رہائشی ضلع لاہور) نے بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، ان کے ساتھ تین جوانوں نے بھی مادرِ وطن پر اپنی جان نچھاور کر دی۔
مزیدپڑھیں:صدارتی ایوارڈ یافتہ سندھی شاعر ڈاکٹر ذوالفقار سیال انتقال کر گئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز کے مطابق
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔