Nai Baat:
2026-06-03@03:22:51 GMT

بدلتا ہے رنگ آسماں…

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT

بدلتا ہے رنگ آسماں…

بحمد اللہ! پاکستان، بنگلہ دیش تعلقات میں روز افزوں پیش رفت نہایت خوش آئند ہے، فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔ پاکستان نیوی کی میزبانی میں 50 ممالک کی شرکت سے بحری مشق میں بنگلہ دیش کی شمولیت اور ان کے نیول چیف کی پاکستان آمد کو دونوں ممالک کے عوام میں گرمجوشی سے دیکھا گیا۔ البتہ بھارت میں شدید کڑھن کا احساس پایا جاتا ہے جس کا اظہار بھارتی اخبار’ ماتھرو بھومی‘ میں یوں کیا گیا کہ: ’یہ ایک ایسی پارٹنر شپ ہے جو نا کام ہو کر رہے گی!‘اس پر بھی خامہ فرسائی فرمائی کہ:’پاکستان، بنگلہ د یش تعلقات ایک سراب ہے!‘ ادھر بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے آن لائن خطاب کے موقع پر مجیب الرحمن کے گھر پر بنگلہ عوام نے جس غیظ و غضب سے چڑھائی کی، وہ سراب کا خواب دیکھنے والوں کے لیے کافی ہے! گوا در میں چینی کمپنی کاایک قصاب گھر، گدھوں کا کھولا گیا ہے۔ سی پیک کے افتتاحی پراجیکٹ میں سے ایک! پاکستان میں 59 لاکھ گدھے ہیں۔ چین کی گدھوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پاکستان پورا کرے گا۔

یورپی سفید فام عصبیت و انتہا پسند (فار رائٹ) کی سپین میں ایک بڑی ریلی ہوئی ہے۔ پورے یورپ سے ’فار رائٹ‘ کے بڑے لیڈروں سمیت 2 ہزار افراد نے شرکت کی۔ ہنگری کا وزیر اعظم اوربن، اٹلی کا ڈپٹی وزیر اعظم سلوینی، فرانس سے لی پن اور نیدر لینڈ سے بدنامِ زمانہ قرآن کریم اعلانیہ جلانے کا مجرم گیرٹ ولڈرز شریک تھے۔ ٹرمپ کو زبردست تائید و تحسین دی گئی۔ امریکی نعرے ہی کی طرح ’یورپ کو دوبارہ عظیم بناؤ‘ کا یہاں نعرہ لگا۔ اور بن کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ ہمیں منحرف، بد عقیدہ جانا جاتا تھا، آج سفید فام بالا دستی مقبول رجحان ہے۔ (باوجویکہ دو لاکھ سے زیادہ افراد نے برلن میں اس سفید فام گروہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔) یادر ہے کہ ٹرمپ اور ایلون مسک ’فار رائٹ‘ کے سرخیل ہیں اور نتین یا ہو اسی کا صیہونی چہرہ۔ یہ اب دنیا میں جس دیوانگی سے اقتدار کی قوت کو استعمال کر رہے ہیں، وہ دیدنی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کی تیاری کے ضمن میں یہ اکٹھ تھا۔ اس وقت بھی 14 یورپی ممالک سے 86 یورپی پارلیمنٹ کے ممبران اس جنونی گروہ کا حصہ ہیں۔ بظاہر یہ تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، انتہا پسندی کی لہر ہے۔ اس میں اصل ہدف مسلمان ہیں۔ برلن میں فلسطین کے حق میں (ٹرمپ کے غزہ خالی کرنے کے بیان کے تناظر میں) جو مظاہرہ ہوا، پولیس اس پر وحشت ناک طریقے سے ٹوٹ پڑی۔ ایک الزام یہ تھا کہ احتجاجی فرد نے عربی بولی تھی۔ حکومتیں ظاہری بیانات( غزہ کے حق میں نیم دلانہ )دینے کے باوجود اصلاً سفید فام بالا دستی ہی کی مؤید ہیں۔ اوربن کی تقریر سے ان کے حقیقی عزائم کھل کر سامنے آگئے۔ یہ کہا کہ ’جزیرہ نما آئیبریا (سپین، پرتگال اور فرانس کا وہ حصہ جو مسلمانوں نے فتح کیا تھا۔) کی نئی فتح(Reconquista) چاہتے ہیں۔فلسطین کے حق میں یورپی،مغربی اقوام کی شدتِ احتجاج پر یہ سیخ پا ہیں۔یہ صلیبی جنگی جنون کی ہی ایک لہرہے جو ’فار رائٹ‘ کے روپ میں ابھری ہے۔مغربی ممالک میں تارکین وطن اور مسلمانوں کے غلبے کے یہ شدید مخالف ہیں۔ باوجودیکہ مغرب کو ترقی کی منزلیں سر کروانے میں تارکین وطن (غیر مسلم ، مسلمان) کا بہت بڑا حصہ ہے۔ سفید فام آبادی دن بدن گھٹتی چلی گئی، ان ملکوں کو باہر سے آنے والوں نے اپنے خون پسینے سے اٹھا کھڑا کیا، کمتر تنخواہوں اور استحصالی رویے برداشت کر کے۔ اسپین ریلی میں اوربن نے کہا کہ ٹرمپ ’ٹورنیڈو‘ (طوفانی گردباد، بگولہ) نے چند ہفتوں میں دنیا بدل دی۔ یقینا! لاس اینجلیس میں بھڑ کی مقامی آگ کو پھیلانے والا تو طوفانی بگولہ ہی تھا جسے موسمیاتی خبروں میں ’فائرنیڈو‘ کہا گیا۔ یعنی ابتدا ’ٹرمپ فائر نیڈو‘ سے ہوئی!پھر پے در پے آسمان نے جہاز، ہیلی کاپٹر سمندر؍ دریا میں دے مارے۔الاسکا میں سسینا جہاز 10 مسافروں کے ساتھ تیزی سے نیچے کو آیا اور کریش ہو گیا۔ اس دوران امریکی جہازوں کے ٹکرانے ، آگ پکڑنے کے مزید تین واقعات ایریزونا، سی ایٹل اور ہوسٹن ’ ٹرمپ ٹورنیڈو‘ کا حصہ ہیں ۔

جنوبی افریقہ نے اپنی غریب آبادی کی فلاح کے لیے اپار تھائیڈ دور کے سفید فاموں کے قبضے میں بڑے بڑے قطعہ ہائے اراضی سے فارم ور کر کو زمین دلانے کا عزم کیا۔ اس پر ٹرمپ بھنا اٹھا اور جنوبی افریقہ کی امداد بند کردی۔ با وجودیکہ یہ بڑا ظلم تھا کہ جنوبی افریقہ میں 8 فی صد گوروں کے پاس 75 فی صداراضی تھیں اور صرف 4 فی صد اراضی 80 فی صد جنوبی افریقی آبادی کے پاس تھی۔ ٹرمپ کی غضبنا کی کی وجہ یہ تھی کہ اس کے لاڈلے مشیرای لون مسک کی زمینیں سیاہ فام غریب افریقی آبادی کو چلی جائیں۔ باوجودیکہ مسک دنیا کا سب سے امیر اور سیاہ فام افریقی غریب ترین کسان ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے دیو ہائے استبداد ہیں جو (بقول اقبال) آزادی کی تعلیم نیلم پری کے روپ میں دنیا کو دکھائے جاتے ہیں۔ اس پر بس نہیں، غزہ ہتھیا نے کو ٹرمپ نے جو اول فول بولی ہے منہ اٹھائے، اسے پوری دنیا، حتیٰ کہ سعودی عرب نے بھی شدت سے رد کیا ہے۔ سعودی ردِعمل میں سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ ترکی الفیصل نے ٹرمپ کو خط میں لکھا کہ فلسطینی غیر قانونی تارکین وطن نہیں کہ انہیں دوسری سرزمینیوں پر بھیج دیا جائے۔

زمینیں ان کی ہیں…ایک اور رد عمل یہ تھا کہ ’اسرائیل الاسکا میں بنا دیا جائے اور فلسطینی اپنی زمینوں پر لوٹیں۔‘اہل غزہ کے مجرمانہ قتل ِعام، ہلاکت و بربادی کے بعد اب ٹرمپ بحر روم کے ساحل پر پک نک، سیاحت اورٹرمپ رئیل اسٹیٹ (اپنی پراپرٹی ڈیلری) کے سہا نے خواب دیکھ رہا ہے۔ فلسطینیوں کو پچکارتے کہتا ہے کہ غزہ رہنے کے قابل نہیں۔ وہ تو گویا جہنم میں رہ رہے تھے۔ انہیں دوسری جگہ محفوظ متبادل دیا جائے گا جہاں وہ جئیںگے، مریں گے نہیں۔ گویا ٹرمپ جان گیا ہے کہ اہل غزہ جنت کے مستحق ہیں۔ غزہ جہنم ہے سو ٹرمپ کو وہاں رہنا چاہیے(جہاں نہ وہ جیئے گا نہ مرے گا!)پناہ بخدا! دنیا کا احمق چودھری!

ٹرمپ اور ای لون مسک کی جوڑی نے پورے امریکہ میں تر تھلی مچادی ہے۔ ہر حکم نامہ،ہر بیان نئی بلا لاتا ہے۔ مسک کی ٹیم کے نوجوان طلبائ، سفید فام برتری کے مؤیدین ہیں۔ مسک سٹیج پرفخر وناز سے متکبرانہ مسخریاں کرتا پھرتا ہے کسی چھو کرے کی مانند۔ اس کے خلاف غم و غصہ اندر ہی اندر ابل رہا ہے۔ صرف دو ہفتے میں کئی ملین امریکیوں کی نجی معلومات تک رسائی اسے مل گئی ہے۔ 2 ملین وفاقی ملازمین کو بے کار کر دیا۔ ایک سینیٹر نے کہا کہ وہ سب کچھ ای لون قبضے میں لے رہا ہے جو بغاوت کرنے، تختہ الٹنے کا لازمہ ہوتے ہیں۔ اور وہ ٹرمپ کا بینہ کارکن بھی نہیں ہے۔ ایک نے کہا:ایک غیر منتخب سایہ حکومت چلا رہا ہے۔ یہ وفاقی حکومت پر مبنی بر دشمنی قبضہ ہے۔ یہ بھی کہ اس نے ٹرمپ کو انتخاب میں بھاری چندہ دیا تھا۔ بزنس والے ایسی سرمایہ کاری بلاسبب تو نہیں کرتے۔ امریکی جمہوریت عین پاکستانی جمہوریت کی عکاس ہے۔ عوام کے نام پر خود ارب کھرب پتی بننے، قوت پانے کا اہتمام۔ دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے ! تارکین وطن پر گوانتا مو بھیج کر ظلم کا ایک اور باب ٹرمپ مزید کھولنے کو ہے۔ غرض عجب افراتفری پورے گلوب پر بپا ہے۔ مگر اللہ ظالموں کو ظالموں کے ہاتھ ختم کرواتا ہے۔ ایک نیا قضیہ چین کے ایک مصنوعی ذہانت انقلاب نے ان کے لیے کھڑا کر دیا ہے۔ ’DeepSeek ‘کے نام سے AI میں راتوں رات ایک بھاری چیلنج امریکی ملٹی نیشنل AI کی کارپوریشن کے لیے آن ٹپکا اور بظا ہر امریکی NVIDIA کو شدید ترین دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ چینی کمپنی کی وجہ سے ایک دن میں امریکی کمپنی کا نقصان 600 ارب ڈالر کا ہوا ہے۔ تکبر کی سونڈ پر داغ ہمیشہ لگتا رہا ہے۔ چہار جانب مظلوموں کی بددعائیں سمیٹتے، دنیا درہم برہم کرنے والے اقدامات! ان دجالچوں کے ہاتھ اللہ باندھ دے اور دنیا کو امن و عافیت لوٹائے۔

پاکستان میں یوایس ایڈ پروگرام کے تحت مدد کا سلسلہ بھی بند کر دیا، ٹرمپ پالیسی نے۔ اللہ ہمیں پاکیزہ برکت والا رزق اپنے ہاں سے عطا کر۔ ہم وہ ہیں کہ بدترین خشک سالی پر نمازِ استقاء تک کی کوئی آواز نہ اٹھی۔ امریکہ کے آگے کشکول پھیلا ئے رہے! بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: تارکین وطن فار رائٹ سفید فام ٹرمپ کو رہا ہے کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام