Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:46:02 GMT

افغان طالبان کی حمایت سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT

افغان طالبان کی حمایت سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود افغان طالبان کی مسلسل حمایت سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیموں نے پاکستان پر دہشتگرد حملے کئے اور افغان طالبان کی حمایت کے باعث حملوں میں اضافہ ہوا ، اس رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ 600سے زائد حملے کئے گئے جن میں سے زیادہ تر افغان علاقوں سے ہوئے ، ٹی ٹی پی کو لاجسٹک آپریشنل اور مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے ایک رہنما نور ولی محسود کے اہلخانہ کو افغان طالبان کی طرف سے ہر ماہ 43ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں، اسی طرح کنڑ،ننگرہار،خوست اور پکتیکا صوبوں میں نئے تربیتی مراکز بھی قائم ہوئے ہیں ، اس رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 6ہزار سے ساڑھے 6ہزار جنگجو موجود ہیں ، ان کی پناہ گاہیں موجود ہیں ، پاکستان سفارتی سطح پر کئی مرتبہ افغان حکومت سے رابطے کرچکا ہے مگر وہاں سے تعاون نہیںکیا جارہا ،اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے آنے والی یہ رپورٹ خاصی اہمیت کی حامل ہے اور اس رپورٹ میں جو انکشافات کئے گئے ہیں اس میںکچھ نئے ہیں۔ جب سے افغانستان کے اندر طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے پاکستان کے اندر دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے ، پاکستان کے وزیر دفاع سمیت اعلیٰ سطح پر افغان حکومت سے رابطے کئے گئے۔ وزیردفاع کابل کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ جے یو آئی کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے بھی گزشتہ سال افغانستان کا دورہ کیا تھا تاہم ابھی تک افغان طالبان نے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردگروپوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیںکی، اقوام متحدہ کی رپورٹ آنا کافی نہیں ہے ، دوحہ معاہدے پر عملدرآمدکرانا امریکا، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے ۔ دوسری جانب عمران خان نے ایک مرتبہ پھر عیدالفطرکے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی ہدایات دے دی ہیں ۔ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل رہنما فیصل چودھری نے یہ اعلان کیا کہ عمران خان نے رمضان المبارک کے بعد تحریک چلانے کی ہدایات دی ہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی ہے عمران خان مسلسل احتجاج اور احتجاجی تحریکوںکی سیاست کر رہے ہیں اور اسی سیاست کے نتیجے میں 9مئی جیسا واقعہ ہوچکا ہے اور اس واقعے کی وجہ سے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں ابھی تک دوریاں ہیں ، 26نومبرکو جوکچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ، تحریک انصاف کے اندر اختلافات کی کہانیاں زبان زدعام ہیں ، شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کے بعد اب سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وکیل رہنما شعیب شاہین کے درمیان جو جھگڑا ہوا ہے اور بات منہ ماری کے بعد ہاتھا پائی اور تھپڑ مارنے ، ایک دوسرے کو زخمی کرنے تک پہنچی ہے، شعیب شاہین اسلام آباد سے تحریک انصاف کے اہم رہنما مانے جاتے ہیں، الیکشن بھی لڑ چکے ہیں اور ہائیکورٹ بار کے صدر کے طور پر تحریک انصاف کو بہت سپورٹ کیا ہے اور ان کے ساتھ فواد چودھری کا رویہ کسی طور پر بھی درست نہیں ہے ، ویسے دیکھا جائے تو فواد چودھری ابھی تک باضابطہ طور پر دوبارہ تحریک انصاف میں واپس نہیں آئے اور نہ ہی ایسا کوئی اعلان پارٹی قیادت کی طرف سے کیا گیا ہے ، وہ پارٹی میں واپسی کیلئے ہاتھ پائوں مارتے رہتے ہیں اور پی ٹی آئی کے رہنما رئوف حسن ، بیرسٹر گوہر ، شبلی فراز ، علی امین گنڈا پور اور دیگر رہنما فواد چودھری کیخلاف بہت سے بیانات دے چکے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ مشکل وقت میں فواد چودھری نے پارٹی چھوڑی تھی لہذا انہیں پارٹی میں واپس نہیں لیا جاسکتا۔ویسے فواد چودھری کا کردار خاصا مشکوک رہا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے ان کے فرار کی ویڈیو بھی بہت وائرل ہوئی تھی ، اگر حکومت کے خلاف تحریک چلانی ہے تو تحریک انصاف کو پہلے اپنے اندر اختلافات کا خاتمہ کرنا ہوگا ، علی امین گنڈا پور کی جنید اکبر کیساتھ نہیں بنتی، پنجاب کے اندر پارٹی قیادت غائب ہے اور حال ہی میں 8فروری کو پنجاب میںکوئی خاص احتجاج نہیںکیا جاسکا لہٰذا ان حالات میں تحریک چلانے کی بجائے حکومت کیساتھ سیاسی مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنا اور آئینی اور قانونی جنگ کو اولین ترجیح رکھنا درست سیاسی حکمت عملی ہوسکتا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افغان طالبان کی اقوام متحدہ تحریک انصاف فواد چودھری پی ٹی ا ئی رپورٹ میں اور دیگر اس رپورٹ ٹی ٹی پی ہیں اور کے اندر کے بعد گیا ہے اور اس ہے اور

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت