فواد چوہدری کی بیوی نے چھڑوالیا ، ہم نے اور زیادہ مارنا تھا، شعیب شاہین
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے کہا ہے کہ فواد چوہدری کی بیوی نے چھڑوا لیا ورنہ ہم نے اسے اور زیادہ مارنا تھا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین نے کہا کہ فواد چوہدری بھگوڑا ہے، مجھے تھپڑ مارا، اس سے زیادہ جواب مل گیا اس کو۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے، بانی نے اس جھگڑے کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے فواد چوہدری کا صلح کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹ بول کر گیا ہے، اس سے کوئی صلح نہیں ہوئی۔ میں فواد چوہدری کے خلاف کوئی شکایت پولیس کو نہ ہی پارٹی کو کروں گا۔ میں فواد چوہدری کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔
افغانستان کرکٹ ٹیم کےکپتان راشد خان نے کراچی میں ٹیم کوجوائن کرلیا
شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے۔پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔ ملک میں نظام انصاف ختم ہوچکا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عوام کی امید ختم ہوچکی ہے۔ عوام اور فوج کے درمیان خلیج کی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔ عوام میں مایوسی پھیلتی جارہی ہے۔
فواد چوہدری کے ساتھ لڑائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کا ہماری پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے۔ان کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں۔فواد چوہدری کو اس کی حرکت سے بڑھ کر جواب دیا ہے۔
چیمپئنزٹرافی کے دبئی میں ہونے والے میچز کے اضافی ٹکٹوں کی فروخت آج سے شروع ہو گی
انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری ہماری پارٹی میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔میرا کوئی راضی نامہ نہیں ہوا فواد چوہدری سے۔ وہ پلاننگ کرکے آیا تھا، جس کے تحت اس نے مجھ پر حملہ کیا ہے۔میں اس کےخلاف قانونی کارروائی نہیں کروں گا میں اس کو جواب دوں گا۔
شعیب شاہین نے کہا کہ عزت اس کی خراب ہوتی ہے جس کی کوئی عزت ہو۔جو بے عزت آدمی ہو اس کی کیا عزت ہوگی۔ اس نے جیل آتے ہی میرے اوپر حملہ کیا۔ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ حملہ کرے گا۔ اس کے بعد ہم نے 4 گنا زائد حساب برابر کردیا لیکن اس بے عزت آدمی کو 4 گنا زیادہ بھی کردیں اس کی کیا بے عزتی ہونی ہے۔ یہ زندگی بھر ٹاؤٹ رہے ہیں، کس طرح مال کمایا ہے، کس طرح بانی پی ٹی آئی کا نام مس یوزکیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی خدشات، پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کر دیا
انہوں نے کہا کہ اس کو یہی تکلیف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام قوم کو دیا اور بتایا کہ اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے پارٹی اور سلمان اکرم راجا کے خلاف ابھی بھی بولتا ہے۔ یہ اپنے چچا کے نام پر پیسے پکڑتا تھا جس کا حامد خان نے اپنی کتاب میں بھی ذکر کیا۔ یہ سول ججز کی ٹرانسفر کے بھی پیسے پکڑتا تھا۔
شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کو پوری بات بتائی ہے اور کہا ہے ہم نے چار گنا حساب برابر کرلیا ہے۔ بانی نے کہا اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں اور اس کی مذمت کی ہے۔ ہم بانی کی کاز کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
بیوہ کی خودسوزی: پشاور میں کرپٹ افسر سے خریدا گھر جو دو جانیں لے گیا
انہوں نے کہا کہ ہماری کسی قسم کی کوئی صلح نہیں اور اس ٹاؤٹ سے کبھی صلح نہیں کروں گا۔پہلی بات ہے کہ میں ایف آئی ار کا قائل نہیں ہوں، ہم نے اس کو زیادہ مارا ہے۔ میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے دو نمبر لوگوں کے خلاف کیا ایف آئی آر کٹاؤں۔
شعیب شاہین نے کہا کہ ہم نے جب بدلہ لینا ہوگا اتنی طاقت ہے کہ اس سے براہ راست بدلہ لیں گے۔ جو بندہ پارٹی میں نہیں اس کے خلاف بانی کیا ایکشن لیں گے۔ آپ کو یاد ہے یہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھاگا تھا۔ میرے دفتر میں مجھے گرفتار کرنے آئے تھے تو میں آرام سے چلاگیا تھا۔ آج پولیس گرفتار کرے سب سے پہلے چلا جاؤں گا۔ اس کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کو بھی مارا جائے گا پھر بھاگا کیسے؟۔ اس کی بیوی آگئی اور چھڑوا لیا نہیں تو ہم نے زیادہ مارنا تھا۔
کراچی کا نوبیاہتا جوڑا آزاد کشمیر کے ہوٹل میں دم گھٹنے سے جاں بحق
انہوں نے کہا کہ فواد جھوٹ بولتا ہے بانی نے اس کا ساتھ نہیں دیا کوئی جھگڑا ختم نہیں کرایا نہ میں نے اس ٹاؤٹ کے ساتھ ساری زندگی صلح کرنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شعیب شاہین نے کہا انہوں نے کہا کہ کہ فواد چوہدری بانی پی ٹی آئی سے کوئی کے خلاف کروں گا تھا کہ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم