UrduPoint:
2026-06-02@22:24:06 GMT

نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں اٹھارہ افراد ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT

نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں اٹھارہ افراد ہلاک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 فروری 2025ء) نئی دہلی سے اتوار 16 فروری کی صبح تک موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی دارالحکومت میں گزشتہ رات اس وقت مسافروں کا بہت بڑا ہجوم موجود تھا، جب وہ سب شمالی بھارتی شہر پریاگ راج میں جاری دنیا کے اس سب سے بڑے مذہبی میلے میں شرکت کے لیے مختلف ریل گاڑیوں میں سوار ہونا چاہتے تھے، جو ہر 12 سال بعد منعقد ہوتا ہے۔

حفاظتی انتظامات کے باوجود ہلاکت خیز سانحے

کمبھ میلہ، جس میں ہر بار کرو‌ڑوں ہندو عقیدت مند شرکت کرتے ہیں، ایک ایسا مذہبی اجتماع ہوتا ہے، جس دوران ہر قسم کے حفاظتی انتظامات کے باوجود بہت زیادہ بھیڑ کے باعث ایسے المناک واقعات پیش آتے ہیں، جن میں بہت سی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

مہا کمبھ میلہ، دس یاتری گنگا اشنان سے قبل چل بسے

عام طور پر ایسا پریاگ راج شہر میں ہی ہوتا ہے۔

نئی دہلی میں پیش آنے والا سانحہ تاہم حکام کے لیے اس لیے بہت حیران کن اور انتہائی افسوس ناک بھی تھا کہ اس میں ملکی دارالحکومت میں اس وقت کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے جب کمبھ میلے میں شرکت کے لیے پریاگ راج جانے کے خواہش مند ہندو مسافروں کے ایک بہت بڑے ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔

کمبھ میلے کے دوران پریاگ راج میں ابھی گزشتہ ماہ بھی ایک سانحہ پیش آیا تھا، جس میں بھگدڑ کے دوران کم از کم 30 افراد مارے گئے تھے۔

کمبھ میلہ دریائے گنگا، دریائے جمنا اور دیومالائی دریا سرسوتی کے اس سنگم کی جگہ پر منعقد ہوتا ہے، جسے ہندو عقیدے کے مطابق بہت مقدس سمجھا جاتا ہے۔

نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ

حکام کے مطابق بھارتی دارالحکومت کے ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ رات بھگدڑ اس وقت مچی جب ہندو عقیدت مندوں کے ایک بہت بڑے ہجوم میں سے تقریباﹰ ہر ایک کی کوشش یہ تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح کسی ریل گاڑی میں سوار ہو کر کمبھ میلے کی طرف اپنا سفر شروع کر سکے۔

کمبھ میلہ رواں ماہ کی 26 تاریخ کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے لوک نایک ہسپتال کی ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ریتو سکسینا نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ''ہم اپنے ہسپتال میں ایسے پندرہ افراد کی موت کی تصدیق کر سکتے ہیں، جو اس بھگدڑ میں مارے گئے۔ ان میں سے کسی کے بھی جسم پر کوئی کھلا زخم نہیں ہے اور وہ بظاہر دم گھٹنے اور صدمے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

‘‘

دہلی میں جناح کا بنگلہ: ہندو تاجر نے خرید کر گنگا جل سے دھلوایا تھا

ڈاکٹر ریتو سکسینا نے مزید کہا، ''ہمارے پاس 11 ایسے زخمی افراد بھی لائے گئے ہیں، جن سب کی حالت طبی طور پر مستحکم ہے، لیکن جو ہڈیاں ٹوٹنے یا ہڈیوں پر لگنے والی چوٹوں کے باعث زیر علاج ہیں۔‘‘

مرنے والوں میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق لوک نایک ہسپتال کے علاوہ نئی دہلی کے ایک دوسرے ہسپتال نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ وہاں بھی اس بھگدڑ میں مرنے والے تین افراد کی لاشیں لائی گئیں۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ 18 ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے ایک قلی کے عینی مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پریاگ راج جانے والی ایک مسافر ریل گاڑی کی روانگی کے لیے طے شدہ پلیٹ فارم اچانک بدل دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے اجمیر درگاہ کو چادر بھیجی، ہندو تنظیمیں ناراض

اس قلی نے بتایا، ''میں یہاں 1981ء سے قلی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔

میں نے آج تک یہاں مسافروں کا ایسا ہجوم پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر جب پریاگ راج جانے والی ریل گاڑی کا پلیٹ فارم اچانک بدل دیا گیا، تو مسافر اس ٹرین میں سوار ہونے کے لیے بھاگنے لگے۔‘‘

اس قلی نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا، ''لوگ بہت تیزی سے بھاگتے ہوئے بدحواس ہونے لگے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور کئی تو زمین پر گرنے لگے۔ بہت سے مسافر بجلی سے چلنے والی سیڑھیوں پر اور عام سیڑھیاں استعمال کرتے ہوئے بھی ایسے گرے کہ بھیڑ میں کچلے گئے۔‘‘

م م / ش خ (اے ایف پی، روئٹرز)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ریلوے اسٹیشن کمبھ میلہ کے مطابق نئی دہلی ہوتا ہے کے لیے کے ایک

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔

ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا