آئی سی سی کے عہدیدار قذافی اور نیشنل اسٹیڈیم کی جدید طرز تعمیر پر حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جیف ایلڈائس نے 117 روز میں قذافی اور نیشنل اسٹیڈیم کی جدید انداز سے تعمیر اور تکمیل کو بڑا کارنامہ قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو جیف ایلڈائس نے لاہور کے شاہی قلعے میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہا اگلے دو ہفتوں تک شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کے پاس کرکٹ سے اپنے جنون کو دکھانے کا سنہری موقع ہے، میں نے اوول میں پاکستان ٹیم کو چیمپیئنز ٹرافی جیتتے دیکھا ہے۔
https://www.express.pk/story/2748167/champions-trophy-2025-iftitahi-taqreeb-2748167/
جیف ایلڈائس نے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی کو جدید صورت میں دیکھ کر خوشی ہوئی، قذافی اسٹیڈیم کی 117 روز میں تکمیل ایک بڑا کارنامہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے دو ہفتےشائقین کو پاکستان میں بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔