Jasarat News:
2026-07-24@14:37:43 GMT

حیدرآباد،زرعی ٹیکس بل زراعت پر حملہ ہے،ہاری کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)دریائے سندھ اور سندھ کی زمینوں کی فروخت کے خلاف بھٹ شاہ میں ہزاروں ہاریوں کا اجتماع، ملک گیر ہاری کانفرنس۔ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سرائیکی وسیب سمیت ملک بھر کے ہاری رہنماؤں نے 6 نئے کینالوں اور کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کو مسترد کر دیا، نئے کینالوں اور ڈیموں کی تعمیر فوراً روکنے اور دریائے سندھ کے تاریخی بہاؤ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ کارپوریٹ فارمنگ اور 6 نئے کینالز کے خلاف عوامی تحریک کے تعاون سے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام بھٹ شاہ میں ملک گیر ہاری کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک بھر کے کسانوں نے دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے بھاری اکثریت سے قراردادیں منظور کیں اور ”گرین پاکستان” منصوبوں کو کسان دشمن منصوبے قرار دے کر مسترد کر دیا۔ زرعی ٹیکس بل کو زراعت پر حملہ قرار دیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر سامراجی اداروں کے کہنے پر میڈیا اور عدلیہ کو قید کر دیا گیا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا ایکٹ ترمیمی بل سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ ارسا ایکٹ میں ترمیم کر کے دریائے سندھ کا پانی سندھ سے چھین کر غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ”گرین پاکستان”، ”زرعی انقلاب”، اور ”اڑان پاکستان” جیسے خوشنما نعروں کے ذریعے کسانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ ملک فروخت کیا جا رہا ہے، زمینیں غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کر کے ملکی سالمیت کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ”روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگا کر سندھ کے عوام سے سب کچھ چھین لیا، اب بلاول-شہباز اتحادی حکومت ”گرین پاکستان” کا نعرہ لگا کر سندھ کو ریگستان بنانے کی سازش کر رہی ہے۔کانفرنس میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر غلام مصطفیٰ چانڈیو، عوامی ورکرز پارٹی کے فیڈرل سیکرٹری بخشل تھلو، حقوق خلق پارٹی کے جنرل سیکرٹری عمار علی جان، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رہنما عالیہ بخشل، دانشور پروفیسر مشتاق میرانی، انجمن مزارعین پنجاب کے صدر مہر غلام عباس، سندھ ہاری پورہیت کمیٹی کے صدر فیض کیریو، کسان کرکیہ تنظیم مردان کے رہنما گلزار خان، حقوق خلق پارٹی کے رہنما رفعت مقصود، حسنین جمیل فریدی، ہاری جدوجہد کمیٹی کے رہنما علی کھوسو، عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے سینئر نائب صدر یونس راہو، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی رہنما ڈاکٹر دلدار لغاری، دریا خان زئور، ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی، لال جروار، سندھی مزدور تحریک کے صدر حاجی خان سمون، سندھی شاگرد تحریک کے مرکزی صدر نوید عباس کلہوڑو، سندھی گرلز اسٹوڈنٹس تحریک کی مرکزی آرگنائز ایڈووکیٹ کونج لاشاری، سجاگ بار تحریک کے مرکزی صدر فاضل کھوسو، مریم انڑ، شمشاد لغاری، علی نواز ڈاہری، بلاول لاشاری اور دیگر کئی اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ مریم نواز ایک ادارے کے سربراہ کے ساتھ مل کر چولستان میں ”گرین پاکستان” منصوبے کا افتتاح کر کے سندھ کو ریگستان بنانے کی سازش کو عملی جامہ پہنا چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مجرمانہ خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس نے صدارتی عہدے کے بدلے دریائے سندھ کو فروخت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چولستان کینال کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ ایک طرف چولستان کی زمینوں پر قبضہ کر کے مقامی ہاریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، دوسری طرف سندھ کے پانی کو چرا کر ان قبضہ شدہ زمینوں کو آباد کرنے کے لیے چولستان کینال تعمیر کی جا رہی ہے۔ صدر زرداری کو سندھ کی زمینوں اور وسائل نیلام کرنے کے لیے اقتدار پر بٹھایا گیا ہے۔ صدراتی عہدے کے بدلے صدر زرداری سندھ کو فروخت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری فاروق طارق نے کہا کہ پنجاب میں ہم کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف اور پانی کی منسفانہ تقسیم کے لیے سندھ کے عوام سے مل کر جدوجہد کر رہے ہیں،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دریائے سندھ پر چھے نئے کینالوں کی تعمیر کو فوری طور پر روکا جائے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کارپوریٹ فارمنگ کو ختم کر کے زمین بے زمین کسانوں اور باریوں میں تقسیم کی جائے ۔ سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر غلام مصطفی چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے کسانوں کو غلام بنا کر دریائے سندھ کو فروخت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے جاگیرداری نظام کو مضبوط کر کے سندھ کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک کے مرکزی صدر کارپوریٹ فارمنگ گرین پاکستان پیپلز پارٹی دریائے سندھ کو فروخت کر کی زمینوں جا رہا ہے نے کہا کہ کمیٹی کے سندھ کو سندھ کے کے لیے رہی ہے کر دیا

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان

لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔

حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔

کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟

پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے

الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔

کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟

حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔

دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔

مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار

ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔

انتخابی مہم عروج پر

آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔

ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان