آفاق احمدنے آڈیومیسج کے ذریعے کارکنان کو اکسایا‘ تفتیشی افسر
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی عدالت میں اشتعال انگیزی اور ڈمپر جلانے سے متعلق کیس کی سماعت۔ دوران سماعت تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ آفاق احمد نے آڈیو میسج کے ذریعے کارکنان کو اکسانے کی کوشش کی، ایم کیو ایم کے چیئرمین آفاق احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر عدالت میں ایف آئی آر درج ہوئی۔6 روز گزرنے کے باوجود چالان پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف آڈیو موصول ہوئی ہے، عدالت نے حکم دیا کہ آڈیو میسج کے شواہد فرانزک کرانے کے بعد عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے پولیس سے آئندہ سماعت پر مقدمہ کا چالان طلب کرتے ہوئے آفاق احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت20 فروری تک ملتوی کردی۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، چالان پیش ہونے میں وقت لگ جائے گا، میرے مؤکل کے خلاف سیاسی رنجش کی بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا ہے، آفاق احمد کی درخواست ضمانت منظور کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا فاق احمد
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں