نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر لوکی فرگوسن بھی چیمپئنز ٹرافی سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
نیوزی لینڈ کے اہم فاسٹ باؤلر لوکی فرگوسن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر لوکی فرگوسن کو اتوار کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے وارم اَپ میچ کے دوران پیرمیں تکلیف ہوئی تھی جس کے باعث وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے۔
لوکی فرگوسن کو بالنگ اسپیل کے دوران دائیں پاؤں میں شدید درد محسوس ہوا تھا جس کے بعد وہ لنگڑاتے ہوئے میدان چھوڑ کر چلے گئے۔
اس حوالے سے کیویز ہیڈ کوچ گیری اسٹیڈ نے بتایا کہ میڈیکل پینل نے طے کیا ہے کہ فرگوسن چیمپئنز ٹرافی کے لیے فٹ نہیں ہو پائیں گے، لوکی فرگوسن بالنگ لائن کا اہم حصہ تھے انکی انجری سے ہمیں نقصان ہوسکتا ہے تاہم کرکٹر کی جلد صحتیابی کیلئے پرامید ہوں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے اسکواڈ میں لوکی فرگوسن کی جگہ کائل جیمیسن کو شامل کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر بین سیئرز بھی چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ چمپئینز ٹرافی 2025 کے میچز کا انعقاد پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں ہوگا، ایونٹ کا آغاز 19 فروری سے کراچی میں ہوگا جبکہ اختتام 9 مارچ کو ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی سے باہر نیوزی لینڈ کے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔