آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مشن کی آمد سے پہلے شعبہ توانائی میں اہم اصلاحات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مشن کی آمد سے قبل شعبہ توانائی میں اہم اصلاحات کا فیصلہ کرلیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق ٹارگٹڈ سبسڈی، بجلی چوری کی روک تھام اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، توانائی شعبے میں اصلاحات کو قومی ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
آئی ایم ایف سے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کا نیا نظام متعارف کرانے کی منظوری لی جائے گی۔ فوسل فیول پر مبنی گاڑیوں کا استعمال کم کرنے کے لیے اضافی کاربن ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں مختص گیس اور بجلی کی سبسڈی کو کم آمدنی والے صارفین تک محدود کیا جائے گا، بجلی شعبے کی پائیداری بڑھانے کے لیے زیر التواء انسداد بجلی چوری قانون کو نافذ کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
گیس ٹیرف کا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میکانزم بھی متعارف کرایا جائے گا، اوگرا کی طرف سے سہ ماہی بنیادوں پر گیس کی قیمتوں میں ردوبدل کا نظام اپنایا جائے گا نئی الیکٹریکل اشیا کے لیے کم از کم کارکردگی کے معیارات کو اپنانا اہداف میں شامل ہیں۔
تمام سرکاری خریداری میں موٴثر آلات کو یقینی بنایا جائے گا، اس مقصد کیلئے پبلک پروکیورمنٹ قوانین میں ترمیم کی جائے گی، پاکستان میں 2030ء تک 30 فیصد نئی گاڑیوں کو الیکٹرک وہیکلز میں تبدیل کرنے کا ہدف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جائے گا
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔