صنم تیری قسم 2 میں ماورا اور ہرش کی جگہ بالی ووڈ کے کونسے دو بڑے اسٹارز ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
پاکستان کی معروف اداکارہ ماورا حسین اور ہرش وردھن کی فلم صنم تیری قسم کی شاندار ری ریلیز کے بعد اس کے سیکوئل کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں بالی ووڈ کی خوبرو اداکارہ شردھا کپور کو کاسٹ کیے جانے کا امکان ہے۔
بھارتی میڈیا کو دیے ایک انٹرویو میں اس فلم کے ہدایتاکار رادھیکا راؤ اور ونے سپرو نے ایک سوال کے جواب میں امکان ظاہر کیا ہے کہ مداحوں کی خواہش پر صنم تیری قسم 2 کیلئے شردھا کپور کو مرکزی کردار کیلئے تصویر کیا جاسکتا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Instant Bollywood (@instantbollywood)
ایک سوشل میڈیا صارف کی جانب سے کی گئی سلمان خان کو ہیرو کیلئے کاسٹ نہ کرنے کی درخواست پر ہدایتکارہ نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتیں سلمان خان اگر 2 منٹ بھی دیں اس فلم کو تو یہ ان کیلئے اعزاز کی بات ہوگی فلم کرنا تو بڑی بات ہے۔
یاد رہے کہ صنم تیری قسم کو اس کی ریلیز کے 9 برس بعد دوبارہ سے سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا ہے جس نے اس مرتبہ پہلے سے بھی زیادہ شہرت حاصل کی ہے اور کامیابی کے ساتھ بزنس کیا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Instant Bollywood (@instantbollywood)
اس فلم کی ری ریلیز کی شاندار کامیابی پر میکرز کی جانب سے اس کے سیکوئل کا اعلان کیا گیا جو کہ آئندہ سال 14 فروری پر ویلنٹائن ڈے کے موقع پر سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صنم تیری قسم
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔