اٹلی میں کشمیر یکجہتی کانفرنس، یورپ میں بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
بریشیا، اٹلی: تحریکِ کشمیر یورپ کی جانب سے دو ہفتے جاری رہنے والی کشمیر یکجہتی مہم کے اختتام پر اٹلی کے شہر بریشیا میں ایک عظیم الشان "کشمیر یکجہتی کانفرنس" کا انعقاد کیا گیا۔
اس کانفرنس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرنا تھا۔
یورپ میں ہونے والی یہ سب سے بڑی کشمیر یکجہتی کانفرنس تھی، جس میں مختلف شہروں سے کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے شرکت کی۔
تقریب میں برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ افضل خان، تحریکِ کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی، میلان کے اسسٹنٹ قونصل جنرل احمد ولید، کمیونٹی ویلفیئر اتاشی وقار خان اور APHC کی رکن شمیم شاول نے شرکت کی۔
افضل خان نے کشمیریوں کے حق میں سیاسی میدان میں متحرک ہونے پر زور دیا اور کہا کہ ظلم کے خلاف مؤثر آواز اُٹھانے کے لیے سیاسی نمائندگی ضروری ہے۔
فہیم کیانی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو آر ایس ایس کا چہرہ قرار دیتے ہوئے اس کی پالیسیوں کو ہٹلر کی فاشسٹ سوچ سے تشبیہ دی۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے اسرائیلی طرز پر کشمیر میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی برادری کو بھارتی اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کشمیر یکجہتی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔