ریاست کو عارف علوی کیخلاف کارروائی،مراعات واپس لینے کا حق ہے،رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
لاہور ( نیوزڈیسک)رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ دیکھ کر ہم مایوس ہوجاتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کا گزشتہ 12سال سے رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر بانی پی ٹی آئی سنجیدہ ہوں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
24نومبر کو بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ عارف علوی صدر مملکت رہے ،ریاست مخالف باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ نوازشریف کیساتھ ملاقاتوں میں اراکین نے مقامی بیوروکریسی کے حوالے مسائل اٹھائے۔
سابق صدر عارف علوی کو تاحیات ایک رہائش ملی ہوئی ہے۔ عارف علوی کو وفاقی وزیر کے برابر تنخواہ بھی ملتی ہے۔ ریاست کو عارف علوی کیخلاف کارروائی،مراعات واپس لینے کا حق ہے۔
ملکی مفاد کے لیے سب کو ملکر بیٹھنا چاہیے۔ ملکی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں کوئی احتجاجی پروگرام بناتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جے یو آئی کس بنیاد پر الیکشن چاہتی ہے آئے بیٹھے اوربات کرے۔ مولانا فضل الرحمان کا مینڈیٹ کہاں چوری ہوا ہماری تو وہاں حکومت نہیں ہے۔
مزیدپڑھیں:سردی کی پھر آمد، ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ،مزید گرج چمک کا امکان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عارف علوی
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔