مکینیکلی اچھی گاڑی میں سفر کریں، شدید برفباری کے باعث مری میں سیاحوں کے لیے ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
مری، گلیات سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جو آئندہ 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے، کمشنر مری نے سیاحوں کے لیے ایڈوائزری جاری کردی ہے کہ وہ مری میں سفر کے لیے مینیکلی اچھی گاڑی استعمال کریں اور سنوچین کا استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے کون سے علاقے بارش سے جل تھل ہوئے اور کہاں ہورہی ہے برفباری؟
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں آج سے بارش برسانے والا سسٹم داخل ہوگیا ہے، جس سے اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر شدید برفباری کا امکان ہے۔
ملکہ کوہسار مری میں صورتحال کچھ یوں ہے
مری گلیات میں برفباری شروع pic.
— Pakistan Tourism (@PakistanJannatt) February 20, 2025
دوسری جانب مری، نتھیاگلی اور ایوبیہ میں بالائی مقامات پر6 سے 8 انچ تک برف پڑچکی ہے، استور میں بھی گزشتہ رات سے وقفے وقفے کے ساتھ برفباری کا سلسلہ جاری ہے، دیر، مالم جبہ، میاندم اور کالام میں بھی برفباری سے سردی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دیر میں 3انچ ، لواری ٹنل، کمراٹ اور اطراف میں اب تک ایک فٹ سے زیادہ برف پڑچکی ہے۔
مری میں برفباری کا سلسلہ رات گئے جاری۔۔ pic.twitter.com/FDmcIeiFCZ
— Latif Shah (@Latifshahji) February 20, 2025
مری میں برفباری کے بعد ڈپٹی کمشنر مری نے سیاحوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے، ڈی سی مری کا کہنا ہے کہ سیاح مری اورگلیات کا سفر کرنے سے پہلے موسم کی صورتحال معلوم کرلیں،مکینیکلی اچھی گاڑی میں سفر کریں، پیٹرول کاٹینک فُل رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں:طویل خشک سالی کے بعد ملکہ کوہسار مری میں برفباری، سیاحوں کی بڑی تعداد امڈ آئی
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مری کا سفر کرنے والے کھانے پینے کی اشیا اور خشک میوہ جات ہمراہ رکھیں، گاڑی چھوٹے گیئرمیں چلائیں، سنوچین کا استعمال کریں، غلط پارکنگ سے گریز کریں اور دوران ڈرائیونگ ویڈیوز اور تصاویر بنانے سے بھی اجتناب کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایڈوائزری بارش برفباری دیر سوات سیاح گلیات مری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈوائزری سوات سیاح گلیات برفباری کا کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔