حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم مصدق ملک کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی ریگولیشن سے ملک میں اسمگل ایرانی آئل کی فروخت بڑھے گی۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ملک میں غیرمعیاری تیل کی فروخت میں اضافہ ہوگا، پیٹرولیم ڈیلرز کے ملک بھر میں 15 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس ہیں۔
خط کے متن کے مطابق ڈیلرز نے اس سیکٹر میں کھربوں کی سرمایہ کاری کررکھی ہے، بطور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز بغیر مشاورت کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا، ڈی ریگولیشن پر پہلے بھی بات چیت کے ذریعے فیصلے کا طے ہوا تھا۔پیٹرولیم ڈیلرز نے خط میں مزید کہا ہے کہ وزیر پیٹرولیم معاملے پر ایسوسی ایشن کے ساتھ بات کریں۔
منصوبے کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) مسابقتی نرخوں پر ایندھن فروخت کر سکیں گی تاکہ وہ اپنی مارکیٹ شیئر میں اضافہ کر سکیں، جبکہ قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ایندھن کی لاگت کو کم کرنے کے لیے، حکومت نے آئل ریفائنریز کو پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد تک ایتھنول شامل کرنے کی اجازت دینے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔