اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق المدارس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )اسلام آباد ہائیکورٹ نے چھوٹی داڑھی رکھنے پر مدرسے کے طالب علم کو امتحان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے وفاق المدارس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا تے ہوئے ریمارکس دیے بچے پاکستان کا مستقبل ہیں، کسی بچے کو دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا، وفاق المدارس کس قانون کے تحت ڈگریاں دیتی ہے؟۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مدرسے کے طالب علم کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس نے جامعہ الاسلامیہ سے درجہ اول کا امتحان پاس کیا، وفاق المدارس کے امتحانی قواعد و ضوابط کی غلط تشریح کرتے ہوئے اسے داڑھی چھوٹی ہونے پر درجہ ثانوی میں امتحان دینے سے روک دیا گیا۔

دوران سماعت کامران مرتضی، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارت تعلیم کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے وفاق المدارس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ وفاق المدارس کس قانون کے تحت ڈگریاں دیتی ہے؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ بچہ جو ڈگری وفاق المدارس سے حاصل کرے گا اس کی حثیت کیا ہوگی؟

جج اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کیا وفاقی المدارس کے ڈگری ہولڈر بچوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے پاس بچوں کو ایک قسم کی سہولیات میسر ہوں گی؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ بچہ جو ڈگری وفاق المدارس سے حاصل کرے گا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ وفاق المدارس کس قانون کے تحت دوسرے اداروں کو اپنے پاس رجسٹرڈ کرتی ہے؟ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں،کسی بچے کو دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق المدارس کو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ تو ایک بالکل مختلف ایکٹ ہے، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے میڈیکل ٹیچنگ اسپتال کسی جھگی میں کھلا ہو، سپریم کورٹ نے ججمنٹ دی اور لا کالجز کو ریگولیٹ کیا، اسی طرح میڈیکل کالجز کو ریگولیٹ کیا گیا، اب کوئی بھی کالج یا یونیورسٹی 100 سے زائد بچوں کو لا میں داخلہ نہیں دے سکتی، 100 اب 101 نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ مدارس کو ریگولیٹ تو کر ریے ہیں مگر یہ نہیں بتا رہے نظام تعلیم کیسے چلے گا؟ کیا صرف اسلام آباد میں موجود مدارس کو رجسٹرڈ کیا جا رہا ہے؟وزات تعلیم کے حکام نے بتایا کہ پورے پاکستان میں مدارس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، بعدازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد طالب علم کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے

پڑھیں:

سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔

ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات