گاڑی جلانے کا مقدمہ، آفاق احمدکا جوڈیشل ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
عدالت نے گاڑی جلانے کے مقدمے میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ کی عدالت میں چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کے خلاف گاڑی جلانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں آفاق احمد کو عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت سے آفاق احمد کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔عدالت نے آفاق احمد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے کیس کا چالان طلب کرلیا۔دوسری جانب آفاق احمد کی پیشی کے موقع پر مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان نے لاک اپ کے باہر نعرے لگائے اور ڈمپر مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا فاق احمد
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔