وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میرے سیاسی رول ماڈل عمران خان ہیں، عظیم انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت کا خیال رکھا جائے۔

پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے تمام طلبہ اور والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ نوجوان اپنے ملک کا نام روشن کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں علی امین گنڈاپور عمران خان کی اجازت سے وزیراعظم سے ملے، گوہر خان کی وی نیوز سے گفتگو

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ وہی ادارے کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، ہم اپنے تمام اداروں کو خود مختار بنائیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ گزشتہ بجٹ میں ہم نے سود سے پاک قرضے دینے کے لیے اقدامات کیے تھے، پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کو 20 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے قرضے دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ انسان کوشش سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے، آپ نے ہمت نہیں ہارنی اور کوشش کرنی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ مسلمان دینی تعلیمات سے ہٹ گئے ہیں، آج دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کی یہی وجہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوششیں کرتے ہیں، طلبہ کو چاہیے کہ عظیم کام کریں اور رول ماڈل بنیں۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان سے علی امین گنڈاپور کی ملاقات، بانی پی ٹی آئی کی نئی ہدایات جاری

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہاکہ مجھے اس لیے چنا گیا ہے کہ میں صوبے اور اپنے عوام کی خدمت کروں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بانی پی ٹی آئی سیاسی رول ماڈل طلبہ عمران خان کانووکیشن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سیاسی رول ماڈل کانووکیشن وی نیوز علی امین گنڈاپور نے کہاکہ رول ماڈل کے لیے

پڑھیں:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔

ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو  100  میں سے تقریباً 90  لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ  ٹینکی بھی کبھی فل کرائی  تھی۔

گاڑی میں  سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ  دو ہزار کا تو کبھی  تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا  جبکہ موٹر سائیکل سوار   تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔

کچھ  موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا  جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی  زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔

یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔

کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار  کا تو کبھی  ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔

اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔

بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو  پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ  اکثر گھروں میں  تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔

اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔

بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش  ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا