’پاک انڈیا میچ یا جنگ؟‘ ٹین اسپورٹس کے مثبت اشتہار نے شائقین کے دل جیت لیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
اس وقت چیمپیئنز ٹرافی جاری ہے اور کل اس ایونٹ کا اہم میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلا جانا ہے، پاکستان اور انڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کی نظریں اس میچ پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چیمپیئنز ٹرافی: پاک بھارت میچ بارش سے متاثر ہونے کا کتنا امکان ہے؟
کرکٹ کی دنیا کے اس دو روایتی حریفوں کے درمیان جب بھی میچ ہوتا ہے، میڈیا اسے ٹاکرا اور دنگ جیسے عنوانات دیکر میچ سے بڑھ کر جنگ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نفرت کی اس فضا میں ہوا کا تازہ جھونکا ٹین اسپورٹس کے کی جانب سے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ریلیز ہونے والے ٹین اسپورٹس کے پروگرام ’ڈی پی ورلڈ ڈریسنگ‘ کے اشتہار میں پاکستان کے لیجنڈری کھلاڑی وسیم اکرم اور وقار یونس کے ساتھ انڈیا کے مشہور کرکٹر نکھل چوپڑا کو دکھایا گیا ہے، جو کرکٹ پر بات سے پہلے ایک دوسرے کے ملکوں میں مقبول گلوکاروں، ڈراموں، کھانوں اور سوغاتوں کی بات کرتے ہیں۔
ایک جانب سے کشوکمار اور اے آر رحمان کے فن کا اعتراف ہوتا ہے تو دوسری طرف نصرت فتح علی خان، علی حیدر کی گائیگی کو سراہا جاتا ہے۔ ایک امیتابھ کی اداکاری کے گُن گاتا تو دوسرا پاکستانی ڈراموں کا معترف نظر آتا ہے۔
بات انڈیا کے مشہور کٹوری کباب اور چٹنی سے ہوتی ہوئی ملتان کے سوہن حلوے پر تمام ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس اشتہار میں فخر عالم کی انٹری ہوتی ہے جو بتاتے ہیں کہ دوسرے پروگرام اور چینلز آپ کو بتائیں گے کہ ۲۳ فروری سنڈے کے دن جنگ ہونے والی ہے ۔۔ اکھاڑ پچھاڑ ہونے والی ہے ۔۔۔ اکھاڑا سجنے والا ہے ۔۔۔ لڑائی ہونے والی ہے ۔۔۔۔ مگر یہاں ڈی پی ورلڈ ڈریسنگ روم میں ہم کرکٹ کو باہمی احترام اور محبت کے ساتھ انجوائے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:چیمپیئنز ٹرافی: انگلینڈ کے بیٹر بین ڈکٹ نے 21 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا
سوشل میڈیا پر ٹین اسپورٹس کے اس اشتہار کو اس کے مثبت کونٹینٹ کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹین اسپورٹس کے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔