آسٹریلیا، انگلینڈ میچ میں بھارتی ترانہ چل گیا، پی سی بی نے آئی سی سی سے وضاحت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
آسٹریلیا، انگلینڈ میچ میں بھارتی ترانہ چل گیا، پی سی بی نے آئی سی سی سے وضاحت مانگ لی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز )لاہور میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے میچ میں بھارت کا ترانہ چل گیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے وضاحت طلب کرلی کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے میچ میں بھارتی ترانہ کیسے چلا؟ذرائع نے بتایاکہ چیمپئنز ٹرافی کیلئے ترانے کی پلے لسٹ آئی سی سی نے تیار کی تھی، بھارت کے پاکستان میں نہ ہونے کے باوجود بھی آئی سی سی نے پلے لسٹ میں بھارت کا ترانہ رکھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان میچ میں ترانہ چلانا آئی سی سی کی ذمہ داری تھی۔ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملے پر آئی سی سی سے رابطہ کیا اور معاملے کی وضاحت طلب کرلی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہر کسی کو اس غلطی پر وضاحت دی جائے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ آئی سی سی کا ٹورنامنٹ ہے، ہر چیز کو کنٹرول اور ایگزیکیوٹ کرنا آئی سی سی کی ذمہ داری ہے۔ خیال رہے کہ آج میچ سے قبل آسٹریلیا کے ترانے کے بجائے چند لمحے کیلئے بھارت کا ترانہ چلا دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میچ میں
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔