یورپی قوانین کی خلاف ورزی: گوگل پر جرمانہ عائد کرنے کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
یورپی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل پر بھاری جرمانہ لگانے کی تیاری شروع کر دی گئی، گوگل پر قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جائے گا، سرچ نتائج میں مجوزہ تبدیلیاں یورپی یونین کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹر، حریفوں کے خدشات دور کرنے میں ناکام ہیں۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یورپی کمیشن گزشتہ سال مارچ سے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر گوگل کی تحقیقات کر رہا ہے۔ تحقیق میں اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ آیا گوگل ذیلی سرچ انجن جیسے گوگل شاپنگ، گوگل فلائٹس اور گوگل ہوٹلز کو حریفوں پر ترجیح دیتا ہے؟ کیا یہ گوگل سرچ رزلٹ پر تھرڈ پارٹی سروسز کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے؟ لوگوں کا کہنا ہے کہ آنے والے الزامات کا تعلق اس مسئلے سے ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق گوگل نے ای ایم ای اے مقابلے کے ڈائریکٹر اولیور بیتھل کی بلاگ پوسٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ کمپنی کمیشن کے ساتھ متوازن حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
حکام نے کہا کہ حریفوں کو خوش کرنے کے لیے گوگل کے سرچ رزلٹ فارمیٹ میں مزید تبدیلیوں کے نتیجے میں کچھ مددگار فیچرز کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے حالیہ مہینوں میں سرچ رزلٹ فارمیٹس میں متعدد تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، تاکہ قیمتوں کا موازنہ کرنے والی سائٹس، ہوٹلوں، ایئر لائنز اور چھوٹے خوردہ فروشوں کے متضاد مطالبات کو پورا کیا جاسکے، ان میں سے اکثریت نے ان تجاویز کو ڈی ایم اے کے مطابق نہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
یورپی یونین کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹرز گوگل کی اس دھمکی سے بھی خوش نہیں ہیں کہ اگر وہ حریفوں کے مطالبات کو حل نہیں کرسکتا، تو وہ سرچ رزلٹ میں بلیو لنکس واپس لائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرچ رزلٹ
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ