کنوارے اور طلاق یافتہ ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
چینی کمپنی کا اپنے ملازمین کو جاری دھمکی آمیز نوٹس وائرل ہوگیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ ستمبر کے آخر تک غیرشادی شدہ رہے تو انہیں نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔
مقامی میڈیا کے مطابق شیڈونگ شونٹیان کیمیکل گروپ کمپنی نے اپنے 1200 ملازمین کو ہدایت دی کہ وہ نہ صرف کام میں بہتری لائیں بلکہ شادی کر کے فیملی بھی قائم کریں۔
28 سے 58 سال کی عمر کے غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ جون کے آخر تک شادی کے لیے کوئی اقدام نہیں کرتے، تو کمپنی ان کا ”تجزیہ“ کرے گی، اور اگر وہ ستمبر تک سنگل رہے تو ان کی ملازمت ختم کر دی جائے گی۔
کمپنی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت کی طرف سے شادی کی شرح بڑھانے کی اپیل کا جواب نہ دینا وفاداری کے خلاف ہے۔ والدین کی بات نہ ماننا بے ادبی ہے۔ اپنے آپ کو سنگل رکھنا بے رحمی ہے۔ اپنے ساتھیوں کی توقعات پر پورا نہ اُترنا انصاف کے خلاف ہے۔
یہ نوٹس وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کی جا رہی ہے، اور اس پالیسی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح ہے کہ یہ تنازع چین میں شادی کی شرح میں کمی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پچھلے سال، شادیوں کی تعداد 6.
اس کے باوجود چین نے 2024 میں 9.54 ملین نئے پیدا ہونے والے بچوں کا ریکارڈ بنایا، جو 2017 کے بعد پیدائش کی شرح میں پہلی بار اضافہ تھا۔ تاہم یووا پاپولیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہر شماریات ہی یافو نے اس اضافے کی وجہ یہ بتائی کہ خاندانوں نے اژدہے کے سال میں بچے پیدا کرنے کو ترجیح دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملازمین کو
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت